سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 145
145 سبیل الرشاد جلد چہارم نہیں ہوتی۔زبان کی بد اخلاقیاں دشمنی ڈال دیتی ہیں۔اس لئے اپنی زبان کو ہمیشہ قابو میں رکھنا چاہئے۔دیکھو کوئی شخص ایسے شخص کے ساتھ دشمنی نہیں کر سکتا جس کو وہ اپن خیر خواہ مجھتا ہے۔پھر وہ شخص کیسا بے وقوف ہے جو اپنے نفس پر بھی رحم نہیں کرتا اور اپنی جان کو خطرہ میں ڈال دیتا ہے جبکہ وہ اپنے قولی سے عمدہ کام نہیں لیتا اور اخلاقی قوتوں کی تربیت نہیں کرتا۔ہر شخص کے ساتھ نرمی اور خوش اخلاقی سے پیش آنا چاہئے " ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 262 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) اور یہی گر ہے جس کو اگر ہر فردا پنا لے تو جماعت کی ایک امتیازی شان قائم ہو سکتی ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : "جس کے اخلاق اچھے نہیں ہیں۔مجھے اس کے ایمان کا خطرہ ہے کیونکہ اس میں تکبر کی ایک جڑ ہے۔اگر خدا راضی نہ ہوتو گویا یہ برباد ہو گیا۔پس جب اس کی اپنی اخلاقی حالت کا یہ حال ہے تو اسے دوسرے کو کہنے کا کیا حق ہے!" ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 590 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے ایک بہت اعلیٰ مقصد کے لئے مبعوث فرمایا تھا۔آپ کی شرائط بیعت میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے اعلیٰ معیار قائم کرنے اور اعلیٰ اخلاق کے نمونے قائم کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔پس ہر احمدی جو اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شمار کرتا ہے اس پر یہ بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ان معیاروں کو حاصل کرنے کی کوشش کرے کیونکہ یہ عہد آپ اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام سے کر رہے ہیں۔جس عہد کا میں ذکر کر رہا ہوں وہ عہد بیعت میں ہم نے کیا ہے۔ورنہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے دوسروں کو بھی کہنے کا ہمیں کیا حق ہے۔پس جیسے کہ میں نے پہلے کہا تھا تبلیغی میدان میں ترقی کرنے کے لئے بھی اپنی عملی حالتوں کو درست کرنا انتہائی ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود نے یہی فرمایا ہے کہ اگر تم خود اپنی اخلاقی حالتوں کو درست نہیں کر رہے تو دوسروں کو تم کیا کہو گے۔پس اس حوالے سے دوسری بات جس کی طرف میں توجہ دلانی چاہتا ہوں، اپنی عملی حالتوں کو درست کرتے ہوئے خدائے رحمن کا بندہ بنتے ہوئے اس کے اس خوبصورت اور حسین پیغام کو جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا اور جس کے پھیلانے کا کام اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کے سپر د کیا ہے اس کو ملک میں پھیلائیں یہ اپنے جائزے لیں، دیکھیں ، کہاں کہاں کمیاں ہیں، کہاں کمزوریاں ہیں ان کو پورا کرتے ہوئے اس کام کو بھی سنجیدگی سے سرانجام دینے کی کوشش کریں۔اس میں ابھی بھی بہت بڑا خلا باقی ہے۔جماعتی نظام بھی اور ذیلی تنظیموں کا نظام بھی اس بارے