سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 144
سبیل الرشاد جلد چہارم 144 کہنا شروع کیا اور کوئی دنیا کا عیب یا برائی نہیں تھی جو اس نے نہ نکالی ہو یا ان کو نہ کہی ہو۔وہ چپ کر کے یہ ساری باتیں سنتے رہے تو برا بھلا کہنے والا شخص جب خاموش ہو گیا تو ان بزرگ نے کہا کہ اگر تو یہ تمام برائیاں جو تم نے مجھ میں گنوائی ہیں واقعی میرے اندر موجود ہیں تو میں بھی اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں تم بھی میرے لئے مغفرت کی دعا کرو۔وہ گالیاں نکالنے والا شخص بے قرار ہو کر اس بزرگ سے چمٹ گیا اور کہا کہ میں غلط ہوں۔یہ برائیاں آپ میں نہیں ہیں۔تو ان بزرگ نے کہا کہ پھر اللہ تعالیٰ تم سے رحم اور مغفرت کا سلوک فرمائے۔تو یہ طریق ہیں بات کو ختم کرنے اور نیکیوں کو پھیلانے کے ورنہ ایسے لوگ جو جھگڑے کر کے جماعت کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں کاٹے جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود نے واضح طور پر فرمایا ہے۔پس اگر غلطیاں سرزد ہو جائیں تو صرف نظر سے کام لینا چاہئے۔اور اگر کوئی حد سے تجاوز کر گیا ہے برداشت سے باہر ہو چکا ہے اور اس میں جماعت کی بدنامی کا بھی امکان ہے تو پھر متعلقہ بڑے نظام کو، نظام جماعت کو یا خلیفہ وقت کو اطلاع دے کر پھر خاموش ہو جانا چاہئے۔دوسروں کو غیروں کو یا کسی بھی تیسرے شخص کو یہ احساس کبھی پیدا نہ ہو کہ فلاں شخص یا فلاں فلاں عہد یدار ایک دوسرے کے خلاف بغض وعنادر کھتے ہیں۔غلطیاں ہر ایک سے ہوتی ہیں۔آج زید سے غلطی ہوئی ہے تو کل بکر سے بھی ہو سکتی ہے اس لئے کینے دلوں میں رکھتے ہوئے کبھی کسی بات کے پیچھے نہیں پڑ جانا چاہئے۔ہر ایک میں کئی خوبیاں اور اچھائیاں بھی ہوتی ہیں وہ تلاش کرنے کی کوشش کریں۔یہی چیز ہے جس سے محبت اور پیار کی فضا پیدا ہوگی۔پس ہر ایک کو اپنے نمونے قائم کرنے کی ضرورت ہے چاہے وہ عہدیدار ہے یا عام احمدی ہے، مرد ہے یا عورت ہے۔اپنے اعلیٰ اخلاق کے نمونے قائم کریں۔جب غیر معمولی مثالی نمونے ہر جگہ قائم ہوں گے تو جماعت کی تبلیغی لحاظ سے بھی ترقی ہوگی اور تربیتی لحاظ سے بھی ترقی کرے گی۔آئندہ نسلیں بھی احمدیت کی تعلیم پر حقیقی معنوں میں قائم ہونے والی پیدا ہوں گی بلکہ یہ نسلیں جماعت کا ایک قیمتی اثاثہ بنیں گی۔زبان ایک ایسی چیز ہے جس کی وجہ سے محبتیں بھی پنپتی ہیں اور قتل و غارت بھی ہوتی ہے۔اس کا صحیح استعمال بھی انتہائی ضروری ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی شخص کے سوال پر اسلام کی یہ خوبی بیان فرمائی کہ وہ لایعنی باتوں کو چھوڑ دے۔بلا مقصد کی بے تکی باتوں کو چھوڑ دے ایسی باتوں کو چھوڑ دے، جن سے دوسروں کے لئے تکلیف کا باعث بنیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اعلیٰ اخلاق کے بارے میں فرماتے ہیں کہ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک اپنے اخلاق دکھائے ہیں کہ بعض وقت ایک بیٹے کے لحاظ سے جو سچا مسلمان ہے، منافق کا جنازہ پڑھ دیا ہے بلکہ اپنا مبارک کر تہ بھی دے دیا ہے۔فرمایا کہ اخلاق کا درست کرنا بڑا مشکل کام ہے۔جب تک انسان اپنا مطالعہ نہ کرتار ہے اپنے آپ کو نہ دیکھتا رہے، یہ اصلاح