سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 471
471 عموماً بعض لوگ سختی کر کے بھی محنت کر کے بھی بظاہر اگلی دنیا کمانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔بعض ایسے مشقت کرنے والے ہیں جن کے کھڑے کھڑے ٹانگیں سوکھ جایا کرتی ہیں جو ہاتھ اونچا کرتے ہیں تو ہاتھ شل ہو جاتے ہیں مگر حاصل کچھ نہیں ہوتا کیونکہ مرنے کے بعد کی جو زندگی ہے وہ ان کو ملے گی جن کو ان چیزوں میں گہری لذت ملتی ہے جو ایک لذت کے خیال سے مصیبت اٹھاتے ہیں ان کو نہیں مل سکتی۔اس اقتباس کے بعد جو یہ رپورٹ جلسہ اعظم مذاہب صفحہ 131 132 سے اقتباس لیا گیا تھا اب اسی رپورٹ سے میں ایک اور اقتباس آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔فرماتے ہیں : " یعنی خدا کا پیارا بندہ اپنی جان خدا کی راہ میں دیتا ہے اور اس کے عوض میں خدا کی مرضی خرید لیتا ہے وہی لوگ ہیں جو خدا کی رحمت خاص کے مورد ہیں۔غرض وہ استقامت جس سے خدا ملتا ہے اس کی یہی روح ہے جو بیان کی گئی جس کو سمجھنا ہو سمجھے"۔(رپورٹ جلسہ اعظم مذاہب صفحہ 188) اب استقامت کے متعلق، وہ کیا چیز ہے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے چند اقتباسات میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔اب وقت چونکہ تھوڑا رہ رہا ہے اس لئے مجھے نسبتاً جلدی گزرنا ہوگا۔اللہ کے بندے جو دین کو دنیا پر مقدم کر لیتے ہیں"۔یہ تحریر ہے جلد نمبر 4 صفحہ 29 ، 6 اگست 1900 ء کی۔" اللہ کے بندے جو دین کو دنیا پر مقدم کر لیتے ہیں ان کے ساتھ وہ رافت اور محبت کرتا ہے۔چنانچہ خود فرماتا ہے وَاللهُ رَءُوفٌ بالعِبَادِ کہ اللہ اپنے بندوں پر یا خالص بندوں پر بہت مہربان ہے یہ وہی لوگ ہیں جو اپنی زندگی کو جو اللہ تعالیٰ نے ان کو دی ہے اللہ تعالیٰ کی راہ میں وقف کر دیتے ہیں اور اپنی جان کو خدا کی راہ میں قربان کرنا، اپنے مال کو اس کی راہ میں صرف کرنا اس کا فضل اور اپنی سعادت سمجھتے ہیں"۔پس وہ ساری دنیا کی جماعتیں جو قربانی کے اس عظیم دور میں داخل ہو چکی ہیں اور ان جماعتوں میں اللہ تعالیٰ نے جماعت جرمنی کو بھی ایک مقام عطا فرمایا ہے ان کے لئے اس تحریر میں یہ سبق ہے کہ جتنی بھی قربانی دیں اس قربانی کو اللہ تعالیٰ کی رافت کا حصہ سمجھیں محض اللہ کا احسان سمجھیں کہ خدا ان کو یہ توفیق دے رہا ہے اور بھولے سے بھی دل میں یہ خیال نہ گزرے کہ شاید ہم کچھ کر رہے ہیں خدا کی خاطر ، خدا کی خاطر ہویا خدا کے لئے بنی نوع انسان کی خاطر ہو ، دونوں صورتوں میں خدمت اپنی ذات میں اعزاز ہے اور اسی کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نقد سودا بیان فرما رہے ہیں۔ہر خدمت اپنی ذات میں اپنی جزاء ہے اور جزاء پر انسان کسی پر احسان نہیں رکھا کرتا جس کو جزا ہل رہی ہو ساتھ ساتھ وہ کیسے کسی گردن پر احسان رکھ سکتا ہے۔" اپنے مال کو اس کی راہ میں صرف کرنا اس کا فضل اور اپنی سعادت سمجھتے ہیں مگر جو لوگ دنیا کی املاک و جائیداد کو اپنا مقصود بالذات بنا لیتے ہیں وہ ایک خوابیدہ نظر سے دین کو دیکھتے ہیں "۔"دنیا کی املاک