سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 470 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 470

470 وجہ سے خود بخود صادر ہونے لگتے ہیں۔" یہی وہ نقد بہشت ہے"۔یہ نقد بہشت " یہ اب قابل غور بات ہے سودا نقد انقدی ہے۔یہ نہ سمجھو کہ اس دنیا میں تو نہیں ملی اور اگلی دنیا میں مل جائے گی۔اللہ ادھار نہیں رکھتا وہ بہشت جو خدا کی محبت کی اعلی لذات کی بہشت ہے وہ تو نقد انقدی تمہیں اس دنیا میں ملتی ہے۔یہی وہ نقد بہشت ہے جو روحانی انسان کو ملتا ہے اور وہ بہشت جو آئندہ ملے گا وہ درحقیقت اسی کی اظلال و آثار ہے"۔اس دنیا میں جس نے بہشت دیکھ لی اس کا ظل ہے ایک جو اخروی زندگی میں ملے گا۔آثار ہیں اس کے یعنی اسکے گویا سائے ہیں جیسے نقش قدم انسان چھوڑتا ہے تو قدم تو نہیں ہوتا مگر گزرے ہوئے قدم کے لئے اس کا نقش قدم را ہنمائی کر رہا ہوتا ہے۔تو اگلی دنیا میں جو بہشت ہوگا وہ یہ بہشت تو نہیں ہوگا جو یہاں حاصل ہے کیونکہ اس سے بہت زیادہ بلند ہے مگر جسے اسی دنیا میں یہ اللہ کی محبت کی لذت کا بہشت نصیب ہو جائے اور یہ نقد انقد سودا ہے جو ا سے مل جائے وہ ہے جو کامل یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ اب جب بھی میں مرا مجھے اسی بہشت کے سائے کے طور پر بہت اعلیٰ چیز میں نصیب ہوگی جن کا میں تصور بھی نہیں کر سکتا۔اب دنیا میں جتنے بھی مذہب کی معرفت بیان کرنے والے حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے بعد گزرے ہیں ان میں سے کسی کی ایسی تحریر نکال کے دکھاؤ۔یہ بد بخت ملاں ایک ایسے عارف باللہ کے پیچھے پڑ کے کیوں اپنی آخرت خراب کرتے ہیں، اس کے متعلق بد کلامی کرتے ہیں جو ہمیں اللہ کی محبت کی راہیں کھول کھول کر دکھا رہا ہے۔فرمایا ”جس کو دوسرے عالم میں قدرت خداوندی جسمانی طور پر متمثل کر کے دکھلائے گی۔اظلال و آثار جو ہیں وہ جسمانی طور پر متمثل نہیں ہوا کرتے کسی چیز کا سایہ ہے تو سایہ ہی ہوگا اصل تو نہیں ہو سکتا۔فرمایا یہ وہ سائے نہیں۔خدا تعالیٰ کی قدرت کاملہ اُس دنیا میں اس دنیا کی جنت کو متمثل کر کے دکھائے گی وہ واقعتا نظر آنے والی محسوس ہونے والی ،سونگھنے والی خوشبوؤں سے معطر، مزوں سے بھری ہوئی جنت حقیقت کا روپ اوڑھ لے گی اور وہ حقیقت جو ہے اس کی تفصیل بیان نہیں کی جا سکتی کیونکہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ کوئی آنکھ ایسی نہیں جس نے وہ جنت دیکھی ہو، کوئی کان ایسا نہیں جس نے اس جنت کا بیان سنا ہو۔پس حقیقت میں وہ جو کچھ بھی ہے یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے مگر اس دنیا کی جو خدا کی محبت کی لذتیں ہیں وہ اتنی زیادہ ہیں کہ ان کی خاطر انسان تمام دنیا کو ایک طرف پھینک دیتا ہے اور ان کو قبول کرتا ہے ان لذتوں کی شدت کا یہ اثر ہے کہ ہر دوسری لذت بیچ ہو جاتی ہے تو اس سے لاکھوں کروڑوں گنا بڑھ کر جو لذت آئندہ مقدر ہے اس کا تصور باندھا جائے۔وہ اگر اور کچھ نہیں تو ان لذتوں کی خاطر ہی اپنی دنیا کو بدلومگر اگر اس دنیا میں جنت نصیب نہ ہوئی تو ان لذتوں کی خاطر جو کچھ بھی کرو گے وہ سب بے کار جائے گا۔یہ پیغام ہے جس کو آپ کو اچھی طرح ذہن نشین کر لینا چاہئے۔