سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 472 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 472

472 و جائیداد کو اپنا مقصود بالذات بنا لیتے ہیں"۔دنیا کمانے سے تو احتر از ممکن ہی نہیں ہے اگر اور کچھ نہیں تو خدا کی راہ میں یا بنی نوع انسان کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے ہی انسان دنیا کمائے گا اور جس کی نیت یہ ہو کہ وہ مجھے اتنا ملے کہ میں زیادہ سے زیادہ اللہ اور اس کے دین کی اور اس کے بندوں کی خدمت کرسکوں وہ اس دنیا کی کمائی کو بالذات نہیں سمجھتے یعنی یہ کمائی ہے۔ہے تو ہے نہیں تو نہ سہی اللہ کی مرضی۔اگر اللہ کی مرضی پر نگاہیں ہیں تو خدا تعالیٰ اگر چاہے تو ان کو سب کچھ چھین کر اس ابتلاء میں بھی آزما سکتا ہے کہ جب ان سے سب کچھ چھین لیا جائے تو دیکھیں ان کے چہرے پر یا ان کے دل پر ملال تو نہیں آجاتا۔جو اللہ کی خاطر جو کچھ ان کے پاس ہے فدا کرتے رہتے ہیں وہ زیادہ فدا تو نہیں کر سکیں گے مگر جو کچھ تھوڑا بہت ان کے پاس بچ جائے گا وہی پیش کرتے رہیں گے۔اس کے برعکس بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ جب کشائش سے آزماتا ہے تو اس وقت وہ کچھ نہ کچھ خدا کی راہ میں خرچ کرتے رہتے ہیں اور جب ان پر مالی تنگی کے دن آتے ہیں تو اجازتیں لیتے ہیں کہ اب ہمیں توفیق نہیں رہی۔حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو مضمون پیش فرما رہے ہیں اس کے مطابق دنیا بالذات نہیں ہوتی۔اصل میں اللہ کی رضا حاصل کرنا اور اس کی خاطر اس کا دیا ہوا خرچ کرنا ہے۔پس اگر اس نے کم کر دیا تو کم میں سے دو۔اگر زیادہ دیا ہے تو زیادہ میں سے دو۔یہ وہ لوگ ہیں جن کا دین دنیا پر مقدم رہتا ہے۔فرمایا: " ایسے لوگ دین کو ایک خوابیدہ نظر سے دیکھتے ہیں"۔یہ خوابیدہ نظریں بھی ہر انسان پہچان سکتا ہے۔کم سے کم اپنی خوابیدہ نظر کو پہچاننے کی انسان میں صلاحیت ضرور موجود ہے۔دینی امور جتنے بھی اسکے گردو پیش واقع ہو رہے ہیں وہ ان کو ایک اتفاقاً حادثاتی طور پر ساتھ ساتھ چلنے والے امور سمجھتا ہے، براہ راست اس کا دل ان امور میں نہیں ہوتا۔احمدیت ترقی کر رہی ہے ، لوگ نیک بنتے چلے جارہے ہیں ، سب میں قربانی کی روح بیدار ہورہی ہے اسے یہ محسوس نہیں ہوتا کہ یہ سارے میرے لئے خدا تعالیٰ کی نعمتیں ہیں۔ہر بات جو میں ایسی سنتا ہوں جو دین کی ترقی کی ہے وہ میرے دل میں بے انتہا لذت پیدا کرتی ہے۔سبحان الله، بسم اللہ کہتے ہیں کہ اچھا یہ ہورہا ہے مگر براہ راست دل پر وہ لذت کی کیفیت طاری نہیں ہوتی جیسی اپنی تجارت کے چمکنے کے نتیجے میں ان کے دل پر ایک لذت کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے اگر کوئی ان کو خبر سنائے کہ جو روپیہ تم نے فلاں جگہ لگایا تھا وہ ایسا ہوا کہ تجارت میں کہ وہ بہت بڑھ چکا ہے۔دنیا میں ایسے حادثات ہوتے ہیں جن کے نتیجے میں بعضوں کی معمولی تجارتیں بھی ایک دم چمک اٹھتی ہیں۔اگر وہ ایسا دیکھیں تو دیکھیں ان کا دل اس بات کو کبھی بھی خوابیدہ نظر سے نہیں دیکھے گا ، بے انتہا خوشیوں سے بھر جائے گا، لذتیں دل میں سمائی ہی نہیں جائیں گی۔اتنا گہرا اثر پڑے گا اس خبر کا کہ اگر اس کو احمدیت کی کامیابیوں کی خبر کے ساتھ موازنہ کر کے دیکھیں تو وہ کچھ بھی باقی نہیں رہے گی۔پس یہ بہت لطیف