سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 469
469 جان نہیں بیچی ہوتی اس لئے وہ محبت آ کر ٹھہر نہیں جاتی ، آئی اور چلی گئی اور دوسری لذتیں پھر اس کی جگہ اپنا ٹھکانہ دل میں بنا لیتی ہیں اور اس طرح وہ خدا کے بندے جو جان بیچنے والے ہیں دوسرے بندوں سے ممتاز ہو کر الگ ہو جاتے ہیں۔یہ ایک بہت گہری حقیقت ہے جس کی طرف میں آپ کو خصوصیت سے متوجہ کرتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے یہ حقیقت بیان کر کے ہماری آنکھوں سے پردے اٹھا دیئے ہیں۔ہم میں سے بکثرت ایسے ہیں جنہوں نے کبھی نہ کبھی اللہ کی رضا کے نتیجے میں دل کو لذت سے معمور ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔بعض ایسے ہیں جن کے بدن پہ جھر جھری طاری ہو جاتی ہے جب وہ خدا کے کسی خاص انعام پر غور کرتے ہیں یا کسی خاص مصیبت سے اللہ تعالیٰ ان کو نجات بخشتا ہے تو واقعہ ان کے دل میں اللہ کا پیار ایک لذت بن کے اترتا ہے لیکن ٹھہرتا نہیں۔آیا اور چلا گیا اور پھر دنیا کی لذتیں دل میں قرار پکڑ لیتی ہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک ایک لفظ قابل توجہ ہے۔"تمام لذت اس کی فرمانبرداری میں ٹھہر جاتی ہے"۔اب کوئی دنیا کا چوٹی کا ادیب بھی ایسی تحریر نہیں لکھ سکتا کہ ہر ہر لفظ با معنی ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی فصاحت و بلاغت سچائی پر مبنی ہے ایک لفظ بھی بے حقیقت نہیں، کوئی لفظ نہیں جو سچائی سے نور یافتہ نہ ہو۔اور یہی سچائی ہے جو آپ کی تحریروں کو ہمیشہ کے لئے زندہ کر رہی ہے۔" اور تمام اعمال صالحہ نہ مشقت کی راہ سے بلکہ تلذذ اور احتظاظ کی کشش سے صادر ہونے لگتے ہیں"۔جب دل میں خدا کی محبت کا لطف ٹھہر جاتا ہے تو اس لطف کو بڑھانے کی خاطر، اس کو ہمیشہ اپنا راہنما بنانے کی خاطر ویسے ہی لطف کے لئے وہ کوشش کرتے ہیں اور انسان جولذت کے لئے کوشش کرتا ہے وہ مشقت نہیں ہوا کرتی۔ہماری جتنی عبادتیں، جتنی خدمتیں مشقت کا رنگ رکھتی ہیں وہ لذت سے محروم ہیں۔کوئی چیز جس میں لذت ساتھ ساتھ حاصل ہو رہی ہوا سے مشقت نہیں کہا جا تا۔دنیا کا ادنیٰ دوکاندار بھی دیکھیں کتنی محنت کر رہے ہیں، اپنے تھوڑے سے پیسے کمانے کی خاطر لیکن چونکہ ان پیسوں میں مزہ آ رہا ہے اس لئے دیکھنے والا سمجھتا ہے کہ بڑی مشقت ہے۔ان کی بلا سے ان کو ذرہ بھی اس میں مشقت محسوس نہیں ہوتی۔کوئی شخص جو صبح اٹھتا ہے، دوکان کھولتا ہے، کوئی بنیا دیکھیں ،سوچیں ذرا وہ رات کے بارہ بجے تک حساب نہی کرتا رہتا ہے اگر اس کو آپ جا کے ہمدردی کریں ، کہیں میاں بس کرو تھک گئے ہو گے دو پہر ہوگئی ہے اب آرام کرو تو کیسی کڑی نظروں سے تمہیں دیکھے گا کہ جاؤ جاؤ اپنی راہ لو مجھ کو میرے حال پہ رہنے دو مجھے مزہ آرہا ہے اس چیز میں اور مزے کے بغیر وہ کام کر ہی نہیں سکتا۔تو فرمایا، " اعمال صالحہ نہ مشقت کی راہ سے بلکہ تلذذ اور احتظاظ کی کشش سے صادر ہونے لگتے ہیں "۔تمام اعمال صالحہ میں ان کو اللہ کی رضا کا مزہ دکھائی دے رہا ہوتا ہے، مزہ محسوس ہو رہا ہوتا ہے اور وہ اس