سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 414 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 414

414 ایک رستہ بتا دیا۔اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے پوچھے گا یہ بات جو میں بیان کر رہا ہوں یہ حقیقت ہے یہ کوئی ملمع کاری نہیں بلکہ حضرت اقدس محمد مصطفی اصلی اللہ علیہ وسلم نے انہی معنوں میں اس مضمون کو کھول کر ہمارے سامنے رکھا۔جب کہ فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے بعض بندوں سے ناراضگی کا اظہار فرمائے گا اور اس رنگ میں ان سے باتیں کرے گا کہ دیکھو جب میں بھوکا تھا تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا، جب میں گھر میں مجھے گھر مہیا نہ کیا۔ہر دفعہ بندہ یہ سن کر کہے گا کہ اے خالق و مالک ! میں محتاج ہوں تو محتاج نہیں۔تو کب پیا سا تھا جب کہ میں نے تجھے پانی نہیں پلایا تو کب بھوکا تھا جب میں نے تجھے کھانا نہیں کھلایا۔تو ہر دفعہ اللہ یہ جواب دے گا جب میرا ایک بندہ پیاسا تھا اور تو نے اسے پانی نہیں پلایا تو تو نے مجھے پانی نہیں پلایا۔جب میرا ایک غریب بندہ بھوکا تھا اور تو نے اسے کھانا نہیں کھلایا تو گویا تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا۔اللہ کی عظمتوں کا کوئی حساب نہیں ہے وہ بھی اپنے لئے عاجزی کے رنگ ڈھونڈھ لیتا ہے حالانکہ ہر قسم کے عجز سے پاک ہے۔تو اس آیت میں یہی مضمون ہے کہ اصل تو خدا کا احسان ہے مگر خدا کا احسان تم خدا پر اتار نہیں سکتے۔خدا کے احسان کی یاد میں میرے بندوں سے احسان کا سلوک کرو اور ان میں سب سے پہلے ماں باپ کا حق ہے۔سب سے پہلے سر فہرست ماں باپ کو بیان فرمایا۔اب ماں باپ سے متعلق بد قسمتی سے آج کل جو نیا زمانہ ہے اس میں ان کی طرف کم سے کم توجہ رہ گئی ہے۔مشرق میں بہت سی جگہوں پر ابھی تک یہ قدریں باقی ہیں لیکن مغرب میں تو تیزی سے یہ اعلیٰ قدریں ملتی جارہی ہیں اور مشرق میں بھی ایسے درناک اور تکلیف دہ واقعات سامنے آتے رہتے ہیں کہ نئی نسلیں اپنے ماں باپ کے تقاضے پورے نہیں کرتیں۔یہ وہ مسائل ہیں جو جماعت احمدیہ کے سامنے بھی وقتا فوقتا آتے رہتے ہیں اور یہ مسائل ایسے ہیں جو ایک طرف کے نہیں دوسرے طرف کے بھی ہیں اور ان دونوں کے درمیان توازن رکھنا بے حد ضروری ہے۔یہ بات سمجھا کر پھر میں چند احادیث آپ کے سامنے رکھوں گا۔تو ازن اس لئے کہ ماں باپ کے احسان کے نام پر بعض دفعہ بچے ماں باپ کی طرف اتنا جھکتے ہیں کہ بیوی بچوں سے انصاف کے تقاضے بھول جاتے ہیں مگر ان کو یہ یاد نہیں رہتا کہ اللہ تعالیٰ نے احسان کا لفظ استعمال فرمایا ہے اور احسان نا انصافی پرمبنی ہو ہی نہیں سکتا۔اس راز کو سمجھیں کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ماں باپ سے احسان کرو لیکن ماں باپ سے احسان یہ اجازت نہیں دیتا کہ کسی اور سے نا انصافی کرو کیونکہ کوئی احسان نا انصافی کی بنیاد پر قائم نہیں ہوسکتا۔اگر بیوی سے نا انصافی کی بنیاد پر ماں باپ کا احسان قائم ہوتا ہے تو اس آیت کریمہ کے مضمون کو جھٹلانے کے بعد رد کرنے کے بعد ایسا ہوسکتا ہے اس کے بغیر نہیں ہوسکتا۔