سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 413 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 413

413 بعض دفعہ مغربی دنیا میں بعض لوگوں نے ذکر کیا کہ یہاں بچے ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں اور بعض دفعہ خطوں میں مشرق سے بھی بعض احمدی لکھتے ہیں کہ ہمارے بچوں کے سر پھر گئے ہیں وہ بدتمیزی سے باتیں بھی کرتے ہیں کہ تم نے ہمیں پیدا کیا تمہارا کیا احسان ہے۔یہ جو مضمون ہے یہ پھر آگے بڑھتا ہے۔پھر ایسے سرکش خدا پر بھی ایسی ایسی باتیں کرنے لگ جاتے ہیں مگر واقعہ یہ ہے کہ ماں باپ کو پیدا کرتے ہیں تو احسان کی نیت سے پیدا نہیں کرتے اس میں کوئی شک نہیں لیکن اللہ جب پیدا فرماتا ہے تو احسان کے ساتھ پیدا فرماتا ہے۔ماں باپ مستغنی نہیں ہیں یعنی اگر ان کے بچے نہ ہوں تو ان میں کمزوری واقع ہوتی ہے لیکن خدا مستغنی ہے اگر وہ بندوں کو پیدا نہ کرے یا یکسر مٹا دے تب بھی وہ اپنی حمد میں، اپنی ذات میں ہر دوسری چیز سے مستغنی رہے گا۔پس یہ وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا لازما احسان ہے اپنی مخلوق پر لیکن دوسرے لوگ جو چیزیں پیدا کرتے ہیں ان کا ان پر ان معنوں میں احسان نہیں جیسے خالق کا مخلوق پر احسان ہوا کرتا ہے تو فرمایا مگر تم نے ان سے احسان کا سلوک کرنا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جو نسل پیچھے رہ رہی ہے وہ اس سے جو آنے والی نسل ہے مستغنی ہو جایا کرتی ہے اور احسان کے بغیر اس سے تعلقات کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔ماں باپ کبھی بھی بچوں سے مستغنی نہیں ہو سکتے لیکن بچے ماں باپ سے مستغنی ہو سکتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ ، پیچھے رہ گئے چھوڑ و پرے، ہماری زندگیاں ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں اور ان کو بوجھ محسوس کرتے ہیں۔پس وہ لوگ جو ماں باپ کی ان قربانیوں کو بھول جاتے ہیں جو چاہے وہ اپنے نفس کی تسکین کی خاطر ہی کرتے ہیں۔مگر بہر حال قربانیاں ہیں اور بعد کی خدمتوں کو بھول جاتے ہیں ان کو توجہ دلائی کہ تم اگر احسان مند نہیں ہونا چاہتے تو احسان کرو کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے تمہاری خاطر تکلیفیں بہر حال اٹھائی ہیں۔چنانچہ ماں کے ذکر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھو کتالمبا عرصہ وَهُنَّا عَلَى وَهْنٍ ایک تکلیف کے بعد دوسری تکلیف اٹھاتے ہوئے تمہیں ماؤں نے اپنے بیٹوں میں پالا ہے اور یہاں تک کہ تمہاری پیدائش ہوئی پھر اس کے بعد تمہارے لئے تکلیفیں اٹھاتی رہیں تو اللہ احسان کا انکار نہیں فرما رہا مگر ایک نفسیاتی انداز ہے گفتگو کا جو بہت ہی گہرا اور انسانی فطرت سے مطابقت رکھتا ہے۔بجائے یہ کہنے کے کہ اے بچے ، اے لڑکے تو اپنے ماں باپ کا احسان یاد کر اور وہ بدلے اتار۔امر واقع یہ ہے کہ ماں باپ کے احسان کے بدلے اتر ہی نہیں سکتے نہ خدا کے احسان کے اتر سکتے ہیں فرمایا اگر تو بوجھ محسوس کرتا ہے تو احسان کر کیونکہ اسی میں تیری بہتری اور تیری بھلائی ہے اور یہ سارے احسانات جن کا بعد میں ذکر آئے گا یہ اللہ کے احسان کی یاد میں ہی کئے جار ہے ہیں۔اللہ کے بے شمار احسانات ہیں ان کا بدلہ خدا سے تو آپ اتار نہیں سکتے۔اللہ فرماتا ہے کہ میرے بندوں پر احسان کرو اگر تم احسان مند ہو اور یہ ہمیں خدا کا احسان اتارنے کی کوشش کرنے میں