سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 415 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 415

415 عدل کا حکم پہلے ہے پھر احسان کا یا درکھیں احسان اور عدل کا یہ جو تعلق ہے یہ قرآن کریم نے بار ہا کھولا ہے اور تمام تعلیمات میں یہ تعلق بہت نمایاں ہو کر دکھائی دیتا ہے۔اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَايْتَائِ ذِي الْقُرْبى اللہ پہلے عدل کا حکم دیتا ہے پھر احسان کا حکم دیتا ہے۔جس نے عدل نہیں کیا اس نے احسان نہیں کیا اور احسان کے بعد پھر ایتاء ذی القربیٰ کا مقام ہے یعنی اس طرح دو جیسے وہ تمہارے اپنے ہوں اور وہاں احسان کا لفظ ہی بے تعلق دکھائی دینے لگے۔تو اس لئے میں سمجھا رہا ہوں کہ اکثر مجھے اس قسم کے خط ملتے رہتے ہیں کبھی بچیوں کی طرف سے، کبھی ماں باپ کی طرف سے، کبھی لڑکوں کی طرف سے اور وہ پھر چھتے ہیں کہ ماں باپ کے حق میں کیا بات داخل ہے۔ابھی پاکستان سے ایک نواحمدی خاتون کا خط بھی ملا ہے وہ بھتی ہے کہ ماں باپ کے احسان پر قرآن کریم نے بہت زور دیا ہے یعنی ان کے حقوق ادا کرنے پر بہت زور دیا ہے اور میری احمدیت ان پر اتنی شاق گزر رہی ہے کہ بعض دفعہ مجھے لگتا ہے کہ شاید ماں باپ کا حق ادا نہیں کر رہی اور گناہ کر رہی ہوں۔ان کو تو میں نے سمجھانے کا خط لکھا ہے تاریخ کے حوالے سے۔اس ماں کے حوالے سے جس نے اپنے بچے کے اسلام پر اتنی تکلیف محسوس کی تھی کہ ایک موقع پر اس نے کہا اے بیٹے میں تجھے اپنا دودھ نہیں بخشوں گی۔میں حسرت کے ساتھ مروں گی اور ہمیشہ ہمیش کے لئے ترے دل پر یہ داغ لگا ر ہے گا کہ میں نے ماں سے بدسلوکی کی تھی اور مجھ سے ناراض گئی۔الفاظ یہ نہیں تھے مگر مضمون یہی تھا جو ماں نے ادا کیا۔اس وقت اس کے بیٹے نے کیسی حکمت کی بات کی اور کیسی عقل کی اور کیسی عارفانہ بات کی۔اس نے کہا تو مجھے بہت پیاری ہے کوئی اور چیز دنیا میں مجھے اتنی پیاری نہیں مگر ایک یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور میرا خدا۔پس اگر تو کہتی ہے کہ اللہ اور رسول کو تیری خاطر چھوڑ دوں اور یہ ڈراوادیتی ہے کہ میں اس حالت میں مروں گی کہ تیرے گناہ نہیں بخشوں گی تو پھر اے ماں ! میرے سامنے سو جانیں تیری سسکتی ہوئی نکل جائیں مگر میں خدا کی قسم محمد رسول اللہ اور اپنے خدا کو نہیں چھوڑوں گا۔یہ ہے حفظ مراتب کا معاملہ۔اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاعْبُدُوا اللهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ہر دوسرا تعلق اس کے مقابل پر کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔وبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا اب جو کچھ کر واللہ کی خاطر کرو کیوں کہ ہر شریک کی نفی ہو چکی ہے۔ہر خاطر کی نفی ہو چکی ہے۔اللہ کی خاطر کرو اور سب سے پہلے یاد رکھو کہ اللہ تمہیں والدین سے احسان کے سلوک کی