سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 412 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 412

412 کرنے کی تلقین کرتی ہے۔پس وہ عبادت گزار جو دنیا سے تعلقات کاٹ کر ایک طرف ہو جائیں وہ حقیقت میں واحد خدا کی عبادت کرنے والے نہیں بلکہ کسی اور ذات کی عبادت کرتے ہوں گے اللہ کی عبادت کرنے والا جو شرک سے پاک ہو اس کی یہ صفات ہیں اور ان صفات سے اس کی عبادت کا خلوص پہچانا جائے گا کیونکہ جو عبادت انسان خدا کے حضور کرتا ہے اس پر دنیا تو گواہ نہیں ہے اس کے دل کی کیفیت ہے۔وہ خالصتا اللہ کے لئے ہے کہ نہیں ، شرک سے پاک ہے کہ نہیں۔یہ سارے وہ معاملات ہیں جن کا رخ خدا کی طرف ہے اور اللہ دیکھ رہا ہے اور بندے کو کچھ پتہ نہیں کہ کیا ہورہا ہے لیکن ایسے لوگوں کی کچھ علامات ایسی ہیں جو بندے بھی دیکھ سکتے ہیں۔اور ان علامتوں کو دیکھ کر ان کو معلوم ہو سکتا ہے کہ یہ خالص عبادت کرنے والا غیر مشرک ہے جس نے اپنے وجود کو تمام تر اللہ کے لئے کر دیا یہ وہ لوگ ہیں جن کی صفات بیان ہو رہی ہیں۔والدین سے احسان کا سلوک کریں سب سے پہلے فرمایا وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا کہ والدین سے احسان کا سلوک کرو۔والدین ایک قسم کے رب بن جاتے ہیں کیونکہ والدین کے ذریعے انسان دنیا میں آتا ہے اور خدا تعالیٰ کے بعد سب سے پہلے والدین ہی کا ذکر ضروری تھا اور یہی کیا گیا ہے لیکن والدین کو ایسے مرتبے پر رکھا ہے جہاں فرمایا ان کے ساتھ احسان کا سلوک کرو۔خدا تعالیٰ کا جہاں تک معاملہ ہے خدا تعالیٰ کے ساتھ احسان کا سلوک ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ خدا تعالیٰ کے احسان ہم پر حاوی ہیں اور اس میں ایک بہت لطیف مضمون یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ اگر چہ ماں باپ تمہیں پیدا کرتے ہیں مگر احسان اللہ کا ہے جب تم ان کے ساتھ حسن سلوک کرو تو ایسا کرو کہ تمہاری طرف سے وہ احسان ان کی طرف رواں ہونے والا ہو۔ایک اور موقع پر اللہ تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے کہ دعا کرو ان کے لئے کہ اے خدا! ان سے یہ سلوک فرما اور یہ سلوک فرما: كَمَا رَبَّيْنِي صَغِيرًا جس طرح انہوں نے بچپن میں میری تربیت فرمائی اور میری پرورش کی۔لیکن وہاں بھی یہ نہیں فرمایا کہ والدین کا احسان ہے۔احسان تو ہے اس کا انکار نہیں یہ نہ غلطی سے سمجھیں کہ نعوذ بالله من ذلك قرآن كريم والدین کے احسان کی نفی فرمارہا ہے۔جس سیاق و سباق میں بات ہو رہی ہے وہاں مضمون ہے کہ احسان اللہ ہی کا ہے اور تخلیق کے جو ذرائع اس نے پیدا فرمائے ہیں ان کے ذریعے ایک چیز پیدا ہوتی ہے اور وہ احسان کی خاطر ماں باپ ایسا نہیں کرتے۔اب آپ دیکھ لیں جو آج کل کی دنیا میں ماں باپ کے سامنے بچے سر اٹھاتے ہیں اور بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں ان میں ایک یہ بات بھی ہوتی ہے کہ تم نے کون سا ہم پر احسان کیا ہے۔تم نے شادی کی تھی اپنی لذتوں کی خاطر ، اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے۔ہم نے تو پیدا ہونا ہی تھانہ ہوتے تو پھر تمہیں تکلیف پہنچتی۔ہم پر کوئی احسان نہیں۔یہ ایک ایسی بات ہے جو حقیقی ہے۔میرے سامنے