سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 409
409 پتہ نہیں لگا اور گھر میں بہو بیٹیوں کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہیں۔بعض لوگ گھر میں کسی کی بیٹی آ جائے تو یہ دیکھنے کے لئے کہ اپنے ماں باپ کو کیا لکھتی ہے یا اس کے ماں باپ اس کو کیا لکھتے ہیں وہ اس کے خطوں کو اس طرح خفیہ خفیہ کھولتے اور اس کے ارادوں کو معلوم کرتے ہیں حالانکہ یہ شدید گناہ ہے۔ایسی بات ہے جیسے جہنم کی آگ اپنی آنکھوں کے لئے مانگی جائے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے بڑی تنبیہ کے ساتھ اس بات سے منع فرمایا ہے۔آج کل ایک ایسی چیز بھی ایجاد ہو چکی ہے جو اس زمانے میں نہیں تھی مگر خط کا مضمون اس پر بھی حاوی ہے اور وہ ٹیلیفون ہے۔بعض لوگ بڑی عمر کو پہنچ جاتے ہیں لیکن ایسے بیوقوف اور بیمار ہوتے ہیں کہ ان کو مزہ ہی اس بات میں آتا ہے، یہی چسکا بنایا ہوا ہے زندگی کا ، کہ گھر میں بیٹھے لوگوں کے فون سن رہے ہیں اور یورپ میں تو ایسے لوگ ہیں جن کا پیشہ ہی یہ بن چکا ہے کہ بعض آلات کے ذریعہ وہ لوگوں کے ٹیلیفون سنتے ہیں۔چنانچہ انگلستان میں ایک مشہور واقعہ ہوا جس کے ساتھ سارے ملک میں بڑی دیر تک شور پڑا رہا کہ ایک شہزادی کے ٹیلی فون کو ایک ظالم آدمی نے اسی طرح بعض خاص آلات کے ذریعے سننا شروع کیا، اس کی ریکارڈنگ کی، اس ریکارڈنگ کو اخبارات کے سامنے بیچا اور اس بے چاری کی ، اس طرح اس کی بدی اور فطری کمزوری کی تشہیر کی اور انہوں نے ٹیلیفون کال کی بڑی قیمت مقرر کر دی کہ یہ پیسے دو گے تو پھر تمہیں ہمارا وہ ٹیلیفون نمبر ملے گا جہاں تم کچھ دیر کے لئے وہ ریکارڈنگ سن سکو گے جو اس شہزادی نے اپنے طور پر کسی سے کی تھی۔اور پتہ لگا کہ اتنا زیادہ کالوں کا رجحان تھا کہ وہ فون بار بار ” ڈراپ کر جاتا تھا۔اور بڑی بڑی رقمیں خرچ کر کے ، لوگ چسکے لینے کے لئے ، اس پرائیویٹ گفتگو کو سنتے تھے۔تو دیکھیں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے انسان کے ذاتی امور کی حرمت کو کس شان سے بیان فرمایا ہے۔کیسی پاکیزہ سوسائٹی کو جنم دیا ہے جس کا تصور آج چودہ سو سال بعد بھی ، ایسے ملک میں بھی موجود نہیں جو اپنے آپ کو سویلائزیشن کے بلند ترین مقام پر بیان کرتا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ ڈیما کریسی اور انسان کے ذاتی حقوق کے جیسے ہم علم بردار ہیں ایسے دنیا میں اور کوئی نہیں اور امر واقعہ بھی یہ ہے کہ دنیا کی نسبتوں سے جیسا انگلستان کو ڈیما کریسی کے او پر فخر کاحق ہے ویسا دنیا میں اور کسی قوم کو نہیں ہو سکتا۔لیکن اس کے باوجود نفسی آزادی اور نفسی حق کی حفاظت کا وہ تصور وہاں نہیں ملتا جو چودہ سو سال پہلے حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ہمارے سامنے پیش فرمایا اور اس میں جیسا کہ میں نے خط کے تعلق سے بیان کیا ہے ٹیلیفون کال ، الگ بیٹھ کر باتیں کرنا یہ ساری چیزیں شامل ہو جاتی ہیں۔ہر تجسس سے آپ کو روکا گیا ہے اور ساتھ یہ نصیحت فرمائی گئی ہے کہ اگر سن لوتو پھر اپنے تک رکھو پھر پردہ دری نہ کرنا۔جہاں یہ خوشخبری دی ہے کہ اگر تم پردہ پوشی کرو گے تو اللہ قیامت کے دن تمہاری پردہ پوشی فرمائے گا وہاں اس میں یہ تنبیہ بھی شامل ہے کہ اگر پردہ دری کرو گے تو قیامت کے دن