سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 408 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 408

408 ہوئے پر دے اگر خدا چاہیئے گا تو اتار دیے جائیں گے اور ہر ڈھکے ہوئے بدن کو نگا بدن دکھایا جائے گا اس دن تمہاری بھائی کی پردہ پوشی تمہارے کام آئے گی۔اور خدا تعالیٰ کی طرف سے تمہارے عیوب کا پردہ بن کر تمہاری کمزوریوں کے سامنے آکھڑی ہوگی۔اگر وہاں پردہ پوشی ہے تو اس دنیا میں لازما ء ہے یہ اس کے اندر شامل بات ہے۔کیونکہ وہ دنیا جس نے یہاں کسی کا ننگ دیکھ لیا، قیامت کے دن دوبارہ دیکھے نہ دیکھے ، باخبر تو ہو گی مگر وہ پردہ پوشی اس مضمون کا انتہائی مقام ہے۔تم نہ یہاں ننگے کئے جاؤ گے۔نہ وہاں ننگے کئے جاؤ گے۔اتنی عظیم الشان خوشخبری ہے اور سب سے زیادہ دنیا اس بات سے غافل ہے۔اپنے بھائی کے عیوب کو تلاش کرنا جس کے خلاف قرآن کریم کی واضح نصیحت موجود ہے، ہدایت ہے وَلَا تَجَسَّسُوا “ ہرگز تجسس اختیار کر کے اپنے بھائیوں کی کمزوریاں نہ پکڑا کرو اس سے کلیۂ غافل بلکہ آگے بڑھ کر کمز ور یاں تلاش کرتے ، ان کے متعلق باتیں کرتے ،سوسائٹی میں وہ خبریں پھیلاتے اور خاص طور پر عورتوں میں یہ بیماری ہے اور مردوں میں بھی ہے۔کسی کا خط نہ پڑھو حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے پردہ پوشی کے مضمون کو تو درجہ کمال تک پہنچا دیا ہے۔جب میں نے یہ ذکر کیا کہ باقی انبیاء کی نصیحتیں دیکھ لیں اور مقابلہ کر کے دیکھیں تو بعض غیر مذاہب والے جب بات کو سنتے ہیں یا سنیں گے تو وہ سمجھتے ہوں گے کہ شاید اپنے نبی کی تعریفیں تو ہر ایک کرتا ہی ہے۔مگر جب میں مضمون بیان کر رہا ہوں اس پر دیانتداری سے غور تو کر کے دیکھیں کوئی ایسی مثال تو نکال کے دکھائیں کہ کسی دنیا کے نمی نے پردہ پوشی کے مضمون کو اس شان سے بیان کیا ہو اور اس تفصیل سے بیان کیا ہو اور اس گہری حکمت اور فراست سے بیان کیا ہو۔حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر جوتعلیم اتری ہے اس نے اس کے سارے پہلوؤں کو ڈھانپ لیا ہے۔”۔لَا تَجَسَّسُوا فرمایا کہ ذکر کرنا تو بعد کی بات ہے ، نظر ہی نہ ڈالو، تلاش ہی نہ کرو۔تمہارے سامنے اگر کسی کی کمزوری آ جاتی ہے تو اس سے بھی آنکھیں بند کرنے کی کوشش کرو۔بعض معاملات میں اس کی اجازت نہیں ہے اس کا ذکر بھی ضروری ہے لیکن وہ میں بعد میں کروں گا۔عام طور پر جو بھائیوں کی کمزوریاں ہیں ان کے متعلق یہ تعلیم ہے اور اس ضمن میں حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے تعلیم کو اس حد تک آگے بڑھا دیا ہے کہ وہ زمانہ جب کہ خط وکتابت کا رواج ہی نہیں تھا، شاذ کے طور پر لوگ خط لکھا کرتے تھے، اس وقت یہ تعلیم دی کہ کسی کا خط نہ پڑھو۔حالانکہ یہ مضمون آج کے زمانے سے تعلق رکھتا ہے اور آج بھی بہت بے وقوف اور متجسس لوگ ایسے ہیں جو چوری ایک دوسرے کے خط پڑھتے ، پھر ان کو احتیاط سے کھولتے اور اسی طرح بند کرتے ہیں اور بتاتے ہیں گویا ہمیں