سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 404
404 ان کی معاشی حالت کا تقاضا ہوتا ہے کہ وہ ہاتھ روک کر جنگی ترشی کے ساتھ گزارہ کریں، اپنے بچوں کا خیال ھیں، اپنے مستقبل بنانے کی کوشش کریں۔اس کی بجائے وہ کھلے ہاتھ خرچ کر کے یوں لگتا ہے جیسے بہت امیر کبیر لوگ ہیں ایسے لوگ تجارت کے لائق نہیں ہوتے۔ایسے لوگوں کی جب تک اصلاح نہ کی جائے اس وقت تک اگر ان کو تجارتوں میں آپ شامل کریں گے تو یہ آپ کو بھی نقصان پہنچائیں گے اس لئے جو کھلے دل کے تاجر ہیں ان کو یہ احتیاط لازم ہے کہ اگر کسی بھائی کی مدد کریں تو اس کی اخلاقی قدروں پر نظر ڈالیں۔اس کی صلاحیتوں پر نظر ڈالیں اور اس ضمن میں قرآن کریم کا ایک راہنما اصول ہمارے سامنے رہنا چاہئے۔قرآن کریم نے جہاں یتامی کی خبر گیری کی تعلیم دی ہے وہاں یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر ایسے یتامی ہوں جن کا مال بحیثیت قوم کے تمہارے سپرد ہو یعنی ان کے ماں باپ فوت ہو چکے ہیں ، وہ چھوٹی عمر کے ہیں اور ان کے اموال ہیں جو قوم کے قبضے میں ہیں یعنی قوم کی طرف سے جو بھی نگران مقرر کئے گئے ہیں ان کے قبضے میں ہیں فرمایا وہ مال ان کو اس وقت تک نہیں لوٹا نا جب تک ان میں رشد کے آثار نہ دیکھو، جب تک انہیں یہ سلیقہ نہ آجائے کہ خود اپنے مال کی کیسے حفاظت کی جاتی ہے۔بہت ہی عظیم الشان گہرا اقتصادی بقا کا اصول ہے جو قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے۔مراد یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ مال ان کا ہے وہ کہہ سکتے ہیں تم کون ہوتے ہو ہمارے مال پر تسلط سے ہمیں روکنے والے۔فرمایا کہ تم ان کو کہہ سکتے ہو کہ ہم تو کچھ نہیں لیکن ہمارا خدا تمہیں اس تصرف سے اس لئے روکتا ہے کہ تم اس بات کے اہل نہیں ہو۔اس لئے قوم کو یہ حق دے دیا ہے کہ اپنے بے وقوفوں کے مال پر ، ان کے اپنے مال پر بھی ان کو تصرف نہ کرنے دو جب تک رشد کے یعنی عقل اور فہم کے آثاران میں نہ دیکھو۔جب تک تربیت کر کے ان کو اس لائق نہ بنا دو کہ وہ خود اپنے مال کی حفاظت کر سکیں۔پس اگر وہاں یہ اصول ہے تو جہاں آپ اپنا مال دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑ نے کا ارادہ رکھتے ہوں، خواہ وہ نیک نیتی سے رکھتے ہوں، وہاں یہ احتیاطیں بدرجہ اولی لازم ہیں اگر ان احتیاطوں میں آپ نے پورے انہماک سے کام نہ لیا تو ایسے لوگ پھر نقصان بھی پہنچادیں گے اور پھر ا کثر ایسے لوگ ناشکرے بھی رہتے ہیں۔آپ ان کی مدد کریں گے، آپ ان کے سپرد کام کریں گے، کچھ پیسے کھا جائیں گے، کچھ تجارت کے مال کا نقصان پہنچا جا ئیں گے اور بعد میں باتیں بنائیں گے کہ ہمارا اس نے کھا لیا ہے۔ہم نے اس کی خاطر اتنی محنت کی ، ہم نے اس کے لئے ایسے ایسے ٹھیکے حاصل کئے اور آخر پر نتیجہ نکلا یہ کہ ہمیں دھکے دے کر باہر نکال دیا۔عمر بھر کی بدنامی آپ کے ساتھ لگی رہے گی۔یہ تو درست ہے کہ اگر خدا کی خاطر آپ ایسا کریں گے، گرے پڑوں کو سہارا دینے کے لئے ایسا کریں گے تو آخرت کا اجر تو آپ کا یقینی ہے لیکن مومن کو تو ” في الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةٌ “ کی دعا کی تعلیم دی گئی ہے۔یہ سکھایا گیا ہے کہ محض ایسے کام نہ کرو کہ آخرت میں جن کا اجر دیکھو، ایسے کام کرو اور ایسے نیک پھلوں کی دعائیں کرو کہ اس دنیا میں بھی تمہیں