سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 405
405 حاصل ہوں اور تمہارے لئے فائدہ مند ہوں اور آخرت میں تو بہر حال اس سے بہت زیادہ فوائد تمہارے انتظار میں تمہاری امانت رکھیں گے۔وہ کام گویا آپ کے نیک اجر کے امین بن جاتے ہیں۔گرے پڑے لوگوں کی بحالی کے لئے کوشاں ہوں تو ان معنوں میں میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے میں سے گرے پڑے ایسے لوگوں کی بحالی کے لئے کوشاں ہوں جو کسی بد عادت کی وجہ سے نہیں بلکہ بعض ایسی مجبوریوں یا حادثات کے نتیجے میں ایک حال کو پہنچ گئے ہیں۔محض کچھ کچھ پیسے دے کر ان کو زندہ رکھنا ان کی عزت نفس کے خلاف ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جب تک آپ ان کو خود اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں کر لیتے وہ سوسائٹی کا ایک معزز جزو نہیں بن سکتے۔آپ کے نزدیک معزز ہو بھی جائیں تو ان کا اپنا ضمیر ان کو ہمیشہ ملامت کرتا رہے گا۔اس لئے ان کے وقار اور ان کی عزت نفس کی حفاظت کی خاطر کوشش کریں کہ وہ کسی رنگ میں اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں لیکن اس رنگ میں کوشش نہ کریں کہ خود تو کھڑے نہ ہوسکیں ، آپ کو بھی لے ڈوبیں اور آپ کو بھی اس حال کو پہنچادیں جس حال کو وہ بدنصیب آپ پہنچے ہوئے ہیں۔پس ان تمام باتوں کو پیش نظر رکھ کر جس حد تک ممکن ہے حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اس نصیحت پر عمل کرنے کی کوشش کریں کہ آپ اپنے بے یارومددگار بھائی کو بے یار و مددگار نہ چھوڑیں۔۔بھائی کی ضروریات کا خیال رکھنے والے کی ضروریات کا اللہ تعالی کفیل ہو جاتا ہے پھر حضوراکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے بھائی کی ضروریات کا خیال رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت کا خیال رکھتا ہے۔" اور یہ بھی ایک ایسا ارشاد ہے جو سو فیصدی قطعیت کے ساتھ تجربے میں درست دکھائی دیتا ہے۔اگر کوئی شخص محض اپنی ضروریات کی تکلیف میں مبتلا رہتا ہے اور ہر وقت اس کے ذہن پر یہ دباؤ ہے کہ میری فلاں ضرورت پوری نہیں ہوئی ،فلاں ضرورت پوری نہیں ہوئی، وہ خود بھی دعائیں کرتا ہے نیک ہونے کی وجہ سے، اور بسا اوقات مجھے بھی دعاؤں کے لئے لکھتا ہے، اور اس کی تمام شخصیت کھل کر میری آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے کیونکہ اس کا فکر اس کا ہم و غم صرف اپنی ذات کے لئے ہے۔ایک اور قسم کا احمدی بھی ہے جو اپنے لئے بھی دعا کے لئے لکھتا ہے،اپنے بعض دوسرے مجبور بھائیوں کے لئے بھی دعا کے لئے لکھتا ہے اور فکر کرتا ہے کہ اس کو یہ تکلیف ہے، اس کو یہ تکلیف ہے اس کے لئے بھی دعا کریں، اس کے لئے بھی دعا کریں۔اس کی شخصیت بھی کھل کر میرے سامنے آ جاتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی غلامی کے دائرے میں شمار ہونے کے زیادہ لائق ہے کیونکہ وہ دوسروں کی فکر میں رہتا ہے۔اور بعض ایسے ہیں جو پھر اس فکر کو بھی بڑھا کر دین کی فکر کو اتنا اپنے اوپر