سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 403 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 403

403 کی بقا کی جدوجہد میں تکلیفیں اٹھا رہے ہیں اور بظاہر وہ آپ سے الگ ہیں۔لیکن اگر ساری جماعت کو ان کی تکلیف کا احساس نہ ہو اور اپنے بے یار و مددگار بھائیوں کی مدد کے لئے ذہن بے چین نہ ہو اور بے قرار نہ ہو تو پھر اس حدیث کا پورا اطلاق ان پر نہیں ہو گا۔مسلمانوں کا حصہ تو ہیں کیونکہ وہ دکھ نہیں پہنچاتے اور واضح کھلا کھلا دکھ اگر کسی کو پہنچ جائے تو مدد بھی کرتے ہیں، ایکسیڈ مٹھو جائے یا اور بیماری کی تکلیف ہو تو کوشش کرتے ہیں کہ وہ دور کی جائے لیکن میں اس سے اگلے مقام کی بات کر رہا ہوں جس کی طرف حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اشارہ فرمایا ہے، وہ یہ ہے کہ تم میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کا کوئی ناصر، کوئی معین ، کوئی مددگار نہیں ہے۔وہ اکیلے اپنی زندگی کی جدو جہد میں مخالف طاقتوں سے لڑ رہے ہیں اور مدد چاہتے ہیں۔مگر ہو سکتا ہے ان کی غیرت کا تقاضا ہو وہ آپ کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائیں۔تلاش کریں ایسے لوگوں کو ، نظر رکھیں ان پر ، اور جو خدا تعالیٰ نے آپ کو صلاحتیں بخشی ہیں، ان صلاحیتوں سے ان کو بھی حصہ دیں۔اگر ایک ہے جو تجارت کرنا نہیں جانتا اور آپ میں سے ایسا ہے جو تجارت کے فن سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے مالا مال کیا گیا ہے، خوب اچھی طرح اسے تجارت کے داؤ پیچ آتے ہیں اور وہ اللہ کے فضل سے ان سے بہترین استفادہ کر رہا ہے تو اس کا اس حدیث کی رو سے یہ فرض ہو گا کہ وہ نظر دوڑائے ، ایسے لوگ جو ان باتوں سے نا آشنا ہیں اور ضرورت مند ہیں، نہ ان کو نوکریاں مل رہی ہیں ، نہ کوئی اور کام میسر ہیں، ان کو اپنے ساتھ لگائیں، پیار کے ساتھ رفتہ رفتہ ان کو سنبھالیں اور اپنے پاؤں پر کھڑا کریں۔یہ جو نصیحت ہے اس ضمن میں ایک احتیاط کی بھی ضرورت ہے اور ضروری ہے کہ آپ کو جس راہ پر چلایا جائے اس کے گڑھوں سے بھی واقف کیا جائے۔اس راہ پر چلتے ہوئے جو چورا چکے ان راہوں پر ڈا کے ڈالتے ہیں ان سے بھی واقفیت کرائی جائے ورنہ آپ آنکھیں بند کر کے یہ قدم اٹھا ئیں تو نقصان کا بھی خطرہ ہے۔بعض لوگ اپنی بعض بد عادتوں کی وجہ سے اس حالت کو پہنچتے ہیں کہ ان کی مدد کرنا بھی نقصان کا سودا ہے۔اور ان کو اگر آپ اپنی تجارت میں شامل کریں گے تو ہر گز بعید نہیں کہ آپ کو شدید نقصان پہنچا دیں۔بعض لوگوں کو آرام سے زندگی بسر کرنے کی عادت ہو چکی ہوتی ہے۔قرض لے کر وہ بے تکلفی سے کھاتے ہیں اور ان کو احساس نہیں ہوتا کہ جس بھائی سے وہ قرض لیا ہے اس کی بھی ضرورتیں ہیں۔بعض تو بے حد مجبور ہیں، معمولی ضرورت کا قرض لیتے ہیں اور بے اختیار ہیں کہ واپس نہیں کر سکتے۔ایسے بھائیوں کا فرض ہے جنہوں نے ان کو قرض دیا ہو کہ حتی المقدور ان سے نرمی کریں اور کوشش کریں کہ وہ خود اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر ان کے بوجھ اتارسکیں ، ان کے قرض اتار سکیں۔لیکن اگر نہیں ، تو معاف کرنے کا بھی سوچیں۔لیکن یہ اور طبقہ ہے۔ایک ایسا طبقہ ہے جس کا ہاتھ قرض میں کھلا ہوتا ہے اس کی روز مرہ کی زندگی کی ضرورت جس قناعت کے طریق سے پوری ہو سکتی ہے وہ نہیں پورا کرتے۔وہ ایسا کھلا ہاتھ رکھتے ہیں جس کا خدا تعالیٰ نے ان کو حق نہیں دیا ہوا۔