سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 371
371 کو ہدایت فرماتا ہے کہ اس کو ایک چیز کی ضرورت ہے اور بعض دفعہ پھر مجھے وہ خطوط پہنچتے ہیں کہ ایک شخص ایسی رؤیا دیکھتا ہے کہ فلاں شخص کو فلاں چیز کی ضرورت ہے اور واقعہ وہ ضرورت مند ہوتا ہے اور اس طرح خدا تعالیٰ اس کی ضرورت کو پورا کرنے کا سامان فرما دیتا ہے تو انصار کا مضمون جو ہے وہ محض اتفاقاً دنیا میں مددگار کا مضمون نہیں ہے بلکہ ایسے مددگار کا مضمون بیان ہو رہا ہے جو اللہ کی طرف سے مقرر فرمائے جاتے ہیں اور بعض دفعہ ان کو الہاما اور وحی کے ذریعہ آپ کی تائید پر کھڑا کیا جاتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مدد پر بھی سینکڑوں ہزاروں ایسے افراد مامور فرمائے گئے جن کو خدا نے وحی کے ذریعہ فرمایا کہ اس شخص کی مدد کے لئے اٹھ کھڑے ہو۔پس وَ مَا لِلظَّلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارِ اپنی جان پر ظلم کرنے والے وہ بیچارے ظالم ہی ہیں جن کے لئے کوئی انصار مہیا نہیں کئے جاتے۔اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقَتِ فَنِعِمَّا هِيَ اگر تم کھل کر صدقات دو تو یہ بھی اچھی بات ہے کیونکہ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرُتِ (البقرہ:149) کے مضمون کے ساتھ اس کا تعلق ہے۔جب تم اعلان کرتے ہو کہ فلاں آگے نکل گیا اور فلاں آگے نکل گیا تو یہ اعلان تبھی کر سکتے ہو کہ اس نے بتایا ہو کہ میں ہوں اور میں نے اتنا دیا ہے تو یہ کھلم کھلا اعلانیہ دینے والی بات ہے۔فرمایا یہ بھی بہت اچھی بات ہے۔وَإِنْ تُخْفُوْهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ۔لیکن اگر تم چھپاؤ اور خدا کے محتاج بندوں پر مخفی ہاتھ سے خرچ کرو تو یہ خود تمہارے لئے بہتر ہے پہلی بات فَنِعما کہہ کر یہ بیان فرمائی کہ ساری سوسائٹی کے لئے ، ساری قوم کے لئے ، سارے نظام کے لئے یہ بات بہتر ہے کہ کھلم کھلا بھی نیکیاں کی جائیں تا کہ دوسروں کو تحریک ہو لیکن جہاں فرمایا مخفی ہاتھ سے دو وہاں فرمایا تمہارے لئے بہتر ہے۔خطرہ ہے کہ اگر تم اعلانیہ ہی خرچ کرتے رہے تو تمہارے دلوں پر زنگ لگ جائیں گے، خطرہ ہے کہ تمہاری نیتوں میں فتور آ جائے گا۔تم خدا کی خاطر خرچ کرنے کی بجائے اپنی انا کو مطمئن کرنے کے لئے ، اپنی ریاء کی خاطر خرچ کرنے لگو گے، کیسی مکمل تعلیم ہے۔اگر صرف خرچ کی تعلیم ہی میں ان چند آیات کا موازنہ ساری دنیا کے مذاہب کی تعلیم سے کر کے دیکھ لیں تو آپ کو اسلام سے بہتر بلکہ اس کے قریب آتی ہوئی بھی کوئی اور تعلیم دکھائی نہیں دے گی۔نہایت کامل، ہر پہلو پر نہایت باریک نظر ڈالنے والی تعلیم ہے۔فرمایا وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِنْ سَيَأْتِكُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَيْرٌ اس کی جزا جیسا کہ ظاہر ہے یہی ہونی چاہئے تھی اور یہی بیان ہوئی ہے کہ تمہارے نفس کے اندر مخفی بدیاں ہیں۔اگر تم چھپا کر صرف خدا کے علم میں لا کر کوئی نیکی کرتے ہو تو وہ ان مخفی بدیوں کو کاٹتی ہے، اس کا گہرا تعلق ان بدیوں سے ہے۔پس ایک انسان جس کو اپنی نیکی کی کہیں سے کوئی جزاء نہ ملے یہاں تک کہ