سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 372
372 Recognition ہی کوئی نہ ہو، کوئی پہچانے ہی نہ تو اس کا دل لازماً خدا کی طرف دیکھے گا، خدا ہی کی طرف نظر ر کھے گا اور اس کی ایک جزا اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ تمہارے اندر جومخفی بدیاں پلتی رہتی ہیں اللہ ان بدیوں کو نیکی کی اس ادا کے ذریعہ دور فرما دے گا۔فرمایا۔وَ اللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ اللہ ان سب باتوں سے واقف ہے جو تم کرتے ہو۔لَيْسَ عَلَيْكَ هُدُهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ تَشَاءُ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تم پر ان کو ہدایت دینا ان معنوں میں فرض نہیں ہے کہ زبردستی ان کو ہدایت پہنچا کر چھوڑ اور نہ تم اپنا فرض ادا نہیں کر سکتے۔تمہارا کام ہے ہدایت پہنچاؤ اور بہترین رنگ میں پہنچا نا تم نے اگر یہ کام مکمل کر دیا تو تمہارا فرض ختم ہو جاتا ہے۔وَلكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ۔حقیقت یہ ہے کہ انسان کا کام صرف پہنچانا ہی ہوتا ہے۔اصل ہدایت اللہ تعالیٰ عطا فرمایا کرتا ہے۔آپ اچھی سے اچھی بات اچھے سے اچھے رنگ میں کسی کے سامنے پیش کر دیں۔اگر خدا اس مخاطب کو اس لائق نہ سمجھے کہ وہ ہدایت پا جائے تو آپ کی ساری باتیں بریکار جائیں گی۔ایک پتھر پر جتنی مرضی موسلا دھار بارش بر سے، وہ بنجر کا بنجر رہے گا۔پس یہ خدا فیصلہ کرتا ہے کہ کون ہدایت سے فائدہ اٹھائے گا اور کون نہیں اٹھائے گا۔فرمایا : اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تیرا کام اتنا ہے کہ تو ان کو ہدایت دیتا چلا جا۔وَلكِنَّ اللَّهَ يَهْدِى مَنْ تَشَاءُ اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا ہدایت عطا فرمائے گا وَمَا تُنفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلِانْفُسِكُمْ یا د رکھو تم ان نصیحتوں پر عمل کرتے ہوئے جو خرچ کرتے ہو یا خرچ کرو گے تو عملاً خدا کو فائدہ نہیں پہنچار ہے۔خدا پر احسان نہیں رکھ رہے، لِاَنفُسِكُم امر واقعہ یہ ہے کہ یہ ہر حال میں تمہارے اپنے لئے ہی ہے۔غریب کی مدد کو احسان نہ سمجھیں اس میں یہ مضمون بھی بیان ہو گیا ہے کہ جب تم کسی غریب کو بھی دیتے ہو تو یہ نہ سمجھا کرو کہ تم نے بڑا بھاری احسان کر دیا ہے کہ اس کی ضرورت پوری کی۔خدا نے جو یہ وعدہ فرما دیا کہ جب تم غریب کو دو گے اس کے بدلے تمہاری برائیاں دور کی جائیں گی تو عملاً تم نے اپنے اوپر احسان کیا ہے۔غریب کی تو ایک مادی ضرورت پوری ہوئی ہے تمہاری ایک روحانی اور دائمی ضرورت پوری کی گئی ہے۔پس اس پہلو سے دیکھو تو خدا کا احسان ہے کہ اس نے اس نیکی کو قبول فرمالیا ہے اور اس کے نتیجہ میں تم نے غریب کو جتنا فائدہ پہنچایا اس سے بڑھ کر اپنی جان کو پہنچایا۔جماعت کا چندہ دیا ہے تو تب بھی جو برکتیں دنیا اور آخرت میں چندہ دینے والے کو عطا ہوتی ہیں وہ اتنی زیادہ ہیں کہ اس کے مقابل پر اس چندے کا فائدہ کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتا۔