سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 370 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 370

370 مال بڑھائے گا۔یہاں سب سے اعلیٰ سب سے افضل اور سب سے پاکیزہ جزا بیان فرمائی ہے۔فرمایا ہے: فَاِنَّ اللهَ يَعْلَمُہ یاد رکھو! اللہ جانتا ہے۔جس محبوب کی خاطر ،جس پیارے کی خاطر تم قربانی دے رہے ہو اس کی اس پر نظر ہے اس سے زیادہ اور اس سے بڑھ کر اور جزاء ہو ہی نہیں سکتی۔آپ اگر کسی پیارے کے لئے کچھ خرچ کریں اور اس کو پتا نہ لگے تو بے چین رہتے ہیں جب تک کہ اس کی نظر میں بات نہ آ جائے۔پنجابی میں کہتے ہیں کہ دستے پتر دامنہ کیہ چمنا مائیں بھی کہتی ہیں کہ اگر بیٹے کو پتا ہی نہیں لگا کہ کس نے منہ چوما ہے تو کیا فائدہ چومنے کا۔جہاں تک اپنے اظہار محبت کا تعلق ہے چومنا ایک طبعی فعل ہے لیکن اس کے مقابل پر بھی تو ایک جواب چاہئے۔پس اللہ فرماتا ہے کہ تم اگر خدا کی خاطر کرو گے تو تمہارے لئے سب سے بڑی خوشخبری یہ ہے کہ اللہ کو پتا ہے۔کوئی قربانی کسی اندھیرے میں کسی وقت رات کو دنیا کی نظر سے الگ ہو کر ، چھپ کر تم خدا کی راہ میں کرتے ہو اور کرتے خدا کی خاطر ہو تو اسے پتا لگ گیا ہے تمہیں پھر اور کیا چاہئے۔وَمَا لِلظَّلِمِينَ مِنْ أَنْصَارِ میں انصار کا کردار پس چندہ دینے والے کے لئے سب سے بڑی جزاء اللہ کی رضا ہے جو اس کے علم سے حاصل ہوتی ہے۔فرمایا وہ تو اللہ جانتا ہے وَ مَا لِلظَّلِمِينَ مِنْ اَنْصَارٍ لیکن جو لوگ ظلم کرنے والے ہیں ان کے لئے کوئی مددگار نہیں۔اب یہ بھی ٹھہر کر غور کرنے والی بات ہے۔یہاں ظلم کرنے والے اور مددگار کا کیا تعلق تھا؟ بات یہ ہے کہ وہ لوگ جو خدا کی راہ میں چندہ دینے سے ڈرتے ہیں وہ اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں اور بظاہر اپنا پیسہ بچارہے ہیں لیکن کسی مشکل اور کسی مصیبت کے وقت کوئی ان کے کام نہیں آئے گا لیکن جو خدا کی خاطر خرچ کرنے سے ڈرتے نہیں ہیں اور اپنی جانوں پر ظلم نہیں کرتے بلکہ اپنی جانوں پر رحم کرتے ہوئے خدا کی خاطر خرچ کرتے ہیں ان کو ضرور انصار مہیا ہوں گے۔پس یہ ایک خوشخبری ہے جو بظاہر نفی کے رنگ میں بیان فرمائی گئی ہے۔مطلب ہے کہ وہ لوگ جو ظلم کرتے ہیں اور خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ان کو پھر خدا کی طرف سے کوئی مددگار نصیب نہیں ہوگا۔لیکن تم جو کرتے ہواس کی ایک جزا تو یہ بیان کر دی گئی کہ اللہ جانتا ہے۔وہ تمہیں پیار سے دیکھ رہا ہے۔دوسرے اس کی یہ جزا بیان کر دی گئی کہ جب بھی تم مشکل میں پڑو گے۔جب بھی کوئی مصیبت واقع ہوگی یا تمہیں کسی مدد کی ضرورت ہوگی تو اللہ جو جانتا ہے کہ تم نے اس کی خاطر قربانیاں دی تھیں وہ تمہارے لئے انصار پیدا فرمائے گا۔ایسے انصار بھی بعض دفعہ مقرر ہو جاتے ہیں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہام ہوا کہ جن پر خدا الہام کرتا ہے وحی کے ذریعہ ان کو بتاتا ہے کہ فلاں کو ایک مدد کی ضرورت ہے۔چنانچہ آج بھی میں دیکھتا ہوں کہ کئی دفعہ کسی ضرورت مند کے لئے جو کسی اور کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتا اللہ تعالیٰ رویا میں کسی