سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 342 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 342

342 استفادہ کرتا ہوں اتنا ہی ان کی محبت میرے دل میں بڑھتی جاتی ہے اور درود میں میں ان کو بھی آل میں شامل کرتا ہوں کیونکہ قرآن کریم کے الفاظ پر جتنی گہری نظر ڈال کر انہوں نے وہ کتاب لکھی ہے جسے مفردات امام راغب کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اس کی کوئی اور نظیر سارے عالم اسلام میں پیش نہیں کی جاسکتی۔بہت گہری نظر سے مطالعہ کیا اور قرآن سے گواہیاں نکالیں اور جو بات بیان کی اس کی قرآن سے ایسی ٹھوس شہادت پیش کی ہے کہ کسی عالم کو پھر اس کے مقابل پر زبان کھولنے کی جرات نہیں ہوسکتی۔یہ ایک لمبی بحث ہے آپ اس میں فرماتے ہیں۔وَالقَصَص الاخبار المتَتَبَّعَة يعنى قصص ان خبروں کو بھی کہتے ہیں جن کی پیروی کی جائے۔پس قصص یعنی تنتبع کے نتیجہ میں جو اخبار ہاتھ آتی ہیں ان کو بھی نقص کہا جاتا ہے۔انقَصَصُ الْحَقُّ ( آل عمران : 63 ) کہ دیکھیں قرآن کریم نے فرمایا انقصصُ الْحَقُّ حق کے بیان کرنے کا طریق مراد نہیں ہے بلکہ حق کے تعلق میں قصے مراد ہیں۔پھر فرماتے ہیں قرآن کریم نے فرمایا۔نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ القصص کہ اس نے قصے بیان فرمائے یہاں قصص نہیں فرمایا ” بیان کرنے کا طریق بیان فرمایا تو مراد ہو ہی نہیں سکتا۔پس ثابت ہوا کہ قرآن لفظ قصص کو قصہ کے متبادل بھی استعمال کرتا ہے۔پھر اس آیت کا حوالہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔نَقُصُّ عَلَيْكَ اَحْسَنَ الْقَصَص کہ ہم تیرے سامنے بہترین قصہ بیان کر رہے ہیں، سب سے زیادہ حسین قصہ بیان کر رہے ہیں۔پس ان مثالوں میں جہاں قصص قصہ کے معنوں میں استعمال ہوا ہے حضرت امام راغب نے اس آیت کریمہ کو بھی شامل کر لیا ہے۔یہ میں اس لئے بیان کر رہا ہوں کہ یہ بزرگ عالم جن کا میں نے ذکر کیا ہے یہ تو ہمیشہ بلاتر دو جب بھی ان کے ذہن میں کوئی ایسا خیال آئے کہ جس کی طرف مجھے متوجہ کرنا ہو یہ ضرور متوجہ فرماتے ہیں اور ان کا بڑا احسان ہے کہ اس معاملہ میں کسی جھوٹے خوف میں یا جھوٹے ادب میں مبتلا نہیں ہوتے لیکن بہت سے ایسے علماء ہیں جو سمجھتے ہوں کہ میں نے غلط بات کہی ہے لیکن دل میں اس وجہ سے چھپا جاتے ہیں کہ شاید ادب کا غلط تصور ہے یا اس وجہ سے چپ ہو جاتے ہیں کہ میرے تقویٰ کا غلط تصور ہے اور ڈرتے ہیں کہ میں برا مناؤں گا۔ان سب کے علم میں یہ بات آجانی چاہئے کہ یہ ترجمہ درست ہے غلط نہیں ہے اگر چہ بعض علماء لفظ نقص کا دوسرا معنی بھی لیتے ہیں جو غلط نہیں لیکن بہت بڑے بڑے علماء کے نزدیک یہ بھی درست ہے۔گزشتہ خطبہ میں میں نے یہ گزارش کی تھی کہ صوفیاء کا ایک بہت ہی مشہور مقولہ ہے مُوتُوا قَبْلَ أَنْ تَمُوتُوا۔میں نے احادیث میں تلاش کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کہیں یہ فرمایا ہے تو میرے علم میں ایسی کوئی حدیث تو نہیں آئی جس میں یہ فرمایا ہو کہ سُؤتُوا قَبْلَ أَنْ تَمُوتُوا۔لیکن ایک اور حدیث میں اس مضمون کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ احسن رنگ میں یوں پیش فرمایا ہے: يأَيُّهَا النَّاسُ تُوبُوا إِلَى اللهِ قَبْلَ أَن تَمُوتُوا کہ اے بنی نوع انسان ! اللہ تعالیٰ کے حضور تو بہ اختیار کرو