سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 341 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 341

341 ساتھ زندہ رہیں۔ہٹ کر اور گر کر اور دنیا کے سامنے بچھ کر زندہ رہنے کے انداز موت سے زیادہ مشابہ ہیں زندگی سے کم۔باقی سب جماعتیں اور خدام اور انصار اور لجنات بھی اس امر کو یاد رکھیں کہ اسی میں زندگی کا راز ہے کہ انسان دین کو دنیا پر مقدم رکھے۔جس دن آپ نے دنیا کو دین پر مقدم کرنا شروع کیا وہی دن آپ کے ہلاکت کے سفر کا آغاز ہوگا۔پھر آپ کا ہر قدم تنزل کی طرف اٹھے گا۔اس لئے ہمیشہ اس بنیادی نکتے کو یاد رکھیں اور یہی تنبل کا مضمون ہے جو میں بیان کر رہا ہوں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی ایک جملے میں آپ کو ہمیشہ کے لئے تجبل کا راز سمجھا دیا کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔چھوڑنے کا نہیں فرمایا۔مقدم رکھنے کا فرمایا ہے۔ہندوستان کی جماعتوں کے لئے بھی یہی پیغام ہے۔ہندوستان کی لجنہ اماءاللہ سے متعلق میں یہ ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ خدا کے فضل سے بہت اچھی لجنہ ہے۔بہت بیدار ہے،خدمات میں مردوں سے پیچھے نہیں بلکہ بسا اوقات آگے نکل جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ ان بجنات کو بھی اپنے فضل کے ساتھ ہمیشہ نیکیوں پر قائم رہنے اور آگے بڑھنے کی توفیق عطا فرما تا رہے۔گزشتہ خطبہ میں میں نے حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے یہ عرض کیا تھا کہ قرآن کریم نے حضرت یوسف کے قصے کو بہترین قصہ قرار دیا۔بہت ہی حسین ، بہت ہی دلکش۔شروع میں تو مجھے تعجب ہوتا تھا لیکن میں نے جتنا غور کیا مجھے اس قصے کا حسن اور زیادہ نمایاں اور جاذب نظر ہو کر دکھائی دینے لگا۔اس پر میرے ایک پرانے بزرگ استاد نے مجھے توجہ دلائی ہے کہ یہاں اَحْسَنَ الْقَصَصِ (یوسف: 4) فرمایا گیا ہے اَحْسَنَ القَصص نہیں فرمایا۔قصہ کی جمع قصص ہوتی ہے اور القصص سے مراد قصہ نہیں بلکہ تبع کرنا ہے جستجو کرنا اور اسی قسم کا مضمون ہے، قصے کا بیان کہا جاسکتا ہے ان کا میرے دل میں بڑا احترام ہے۔میں جانتا ہوں کہ وہ علوم عربیہ پر بڑی گہری نظر رکھتے ہیں لیکن اس سلسلہ میں معذرت کے ساتھ ان کا یہ مشورہ قبول کرنے سے قاصر ہوں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل علم نے جہاں یہ بات بھی لکھی ہے جو میرے سامنے پیش کی گئی وہاں اس بات پر بھی زور دیا اور بڑی واضح قطعی گواہیاں پیش کیں کہ سورہ یوسف میں جہاں اَحْسَنَ الْقَصَصِ فرمایا گیا ہے۔وہاں بہترین قصہ مراد ہے اور اس کے دلائل پیش کئے۔مثلاً انگریزی ڈکشنری میں سب سے زیادہ اہم اور مستند کتاب Lane ہے۔Lane جہاں اور معنے بیان کرتا ہے وہاں یہ بھی لکھتا ہے کہ اَحْسَنَ الْقَصَص میں لفظ قصص قصے کا متبادل ہے کیونکہ یہ Substantive ہے اور عربی لغت سے یہ ثابت ہے کہ بعض دفعہ Substantive کو اسم کے متبادل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔پس یہاں اس کا ترجمہ قصہ کرنا نا جائز نہیں لیکن اس سے بہت بڑھ کر ایک بہت ہی بزرگ صاحب فہم اور صاحب عرفان عالم دین حضرت علامہ امام راغب کی گواہی ہے۔میں تو علامہ امام راغب کے علم سے جتنا