سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 343
343 پیشتر اس سے کہ تَمُوتُوا - تم مرجاؤ۔بادروا بالاعمال الصالحة قبل ان تشغلوا اور اعمال صالحہ بجالانے میں جلدی کرو پیشتر اس کے کہ تم دوسری باتوں میں مشغول کر دیئے جاؤ۔ابن ماجہ کتاب اقامة الصلوۃ حدیث نمبر : 1017) دوسری باتوں میں مشغول کر دئے جانے کا جو مضمون ہے یہ مزید وضاحت طلب ہے۔اس میں بہت ہی گہری حکمت کا بیان ہے۔اگر انسان اعمال صالحہ کی بجا آوری میں جلدی نہیں کرتا تو ایسے مواقع بسا اوقات ہاتھ سے کھوئے جاتے ہیں اور پھر ہاتھ نہیں آیا کرتے۔ہر انسان کے اندر تبدیلی کا ایک وقت آتا ہے۔دل سے ایک موج اٹھتی ہے جو نیکی کی موج ہوتی ہے۔اس وقت وہ کہتا ہے کہ میں یوں کردوں اور یوں کر دوں۔قرآن کریم کے مطالعہ کے وقت احادیث کے مطالعہ کے وقت ، بزرگوں کے اقوال خصوصاً حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ملفوظات سے بار ہادل میں ایسی لہریں اٹھتی ہیں کہ میں اپنے کو یہ کرنے پر آمادہ پارہا ہوں۔میرا دل چاہتا ہے میں ایسا ہو جاؤں وہ وقت اس نیک ارادے کو عمل میں ڈھال دینے کا ہے اور اگر انسان جلدی نہ کرے تو یہ وقت ضرور ہاتھ سے چلا جاتا ہے، وہ کیفیت مدام نہیں رہتی اسی طرح رمضان المبارک میں بھی ایسے وقت آتے ہیں، ایسی راتیں آتی ہیں جب انسان کا دل چاہتا ہے کہ سب کچھ خدا کے حضور حاضر کر دے اور اس وقت ہمت نہیں ہوتی کہ اس خواہش پر عمل پیرا ہو سکے۔عمل نہ کرنے کے نتیجہ میں رمضان گیا اور نیک ارادے بھی اس کے ساتھ رخصت ہوئے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قَبْلَ أَنْ تَشْغَلُوا جو فرمایا تو مراد یہ ہے کہ نیک کاموں کے علاوہ ایسے مشاغل میں مبتلا ہو جاؤ جو تمہیں نیک کاموں سے غافل کر دیں، جن کی وجہ سے تمہارے نیک مواقع ہاتھ سے جاتے رہیں۔تَشْغَلُوا میں ایک اور بھی تنبیہہ ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی تقدیر تمہیں مصیبتوں میں مبتلا فرمادے، ہم ایسے گورکھ دھندوں میں پڑ جاؤ جو تمہارے لئے تکلیف کا موجب بنیں اور پھر نیک اعمال کی طرف لوٹنے کی تم میں صلاحیت ہی نہ رہے۔تشغلوا میں مرضیں بھی آجاتی ہیں ایک صحتمند انسان عبادت کا جیسا حق ادا کر سکتا ہے بیمار نہیں کر سکتا لیکن اگر انسان صحت کے ہوتے ہوئے عبادت سے غافل رہے تو بسا اوقات ایسے انسان میں ایسی بیماریاں آجاتی ہیں کہ وہ پھر عبادت کے لائق ہی نہیں رہتا یہ مضمون بڑا وسیع ہے۔ہر نیکی کی راہ میں کوئی نہ کوئی بیماری حائل ہو سکتی ہے۔پس آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قَبْلَ أَن تَشْغَلُوا کہہ کر احتمالی بیماریوں کا بھی ذکر فرما دیا احتمالی حادثات کا بھی ذکر فر ما دیا اور کئی قسم کے گورکھ دھندے جو انسان کو گھیر لیتے ہیں اور انسان ان میں مبتلا ہو جاتا ہے ان کا بھی ذکر فر ما دیا اور اس بنیادی فطرت انسانی کا بھی ذکر فرما دیا کہ ہر انسان کی زندگی میں ایسے لحات آتے ہیں جب وہ اپنے آپ کو نیک ارادوں پر تیار پاتا ہے اس وقت وہ ارادہ اگر عمل میں نہ ڈھلے تو وقت ہاتھ سے جاتا رہتا ہے۔