سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 337
337 اب صرف بیٹھنے کو منع نہیں فرمایا۔فرمایا ایسی حالت میں بیٹھتا ہے کہ بے غیرت بنتا ہے۔ہاں میں ہاں ملانا لفظا ہی نہیں بلکہ خاموش رہنے کے نتیجہ میں بھی ہوا کرتا ہے۔اسے حدیث تقریری کہتے ہیں یعنی ایک انسان ایک بد بات کو سن رہا ہے اور اس کے خلاف کھل کر یا اپنے ماضی الضمیر کو، اپنے دل کی بات کو بیان نہیں کرتا یا چپ کر کے بیٹھا رہتا ہے تو ایسا شخص عملاً اس میں شامل ہو جاتا ہے۔پس ہاں میں ہاں ملانے سے مراد یہ ہے کہ ایسی مجالس میں جہاں دین کو تخفیف یعنی حقارت کی نظر سے دیکھا جا رہا ہو اور دین پر مذاق اڑائے جار ہے ہوں تو ایسا شخص جو وہاں سے نہیں اٹھتا اور عملاً ان کے ساتھ شامل ہو جاتا ہے۔فرمایاوہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔پھر فرمایا " ہر ایک زانی، فاسق ، شرابی ، خونی چور، قمار باز ، خائن، مرتشی ، غاصب، ظالم، دروغ گو، جعلساز اور ان کا ہمنشین " یعنی ایسے لوگوں کے ساتھ جو عملاً موید بن چکا ہوتا ہے۔یہ جانتے ہوئے کہ یہ بدیاں ہیں پھر بھی ان کے ساتھ تعلقات ایسے بڑھا لیتا ہے کہ دراصل ان سے استفادہ کر رہا ہوتا ہے۔یہاں ہم نشین سے مرادا تفاقایا کچھ دیر کیلئے کہیں بیٹھنے والا یا ساتھ پھرنے والا مراد نہیں ہے۔ہم نشین ایک محاورہ ہے جیسے شرابیوں کے ہم نشین ہوتے ہیں وہ ان کے ساتھ کچھ کھا پی بھی لیتے ہیں اگر نہ بھی پیتے ہوں تو اس مجلس کا لطف اٹھارہے ہوتے ہیں تو ہم نشین کا مطلب ہے کہ جو ان کی ان سب بدیوں میں کسی نہ کسی رنگ میں یا مؤید ہوتے ہیں یا ان کا لطف اٹھارہے ہوتے ہیں، یہ مجلسیں ان کو اچھی لگ رہی ہوتی ہیں۔تبھی وہ ان میں اٹھنا بیٹھنا اپنا ایک مستقل شعار بنا لیتے ہیں۔زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔فرمایا وہ سب میری جماعت میں سے نہیں ہیں۔پھر فرمایا: اور اپنے بھائیوں اور بہنوں پر تہمتیں لگانے والا جو اپنے افعال شنیعہ سے تو بہ نہیں کرتا اور " خراب مجلسوں کو نہیں چھوڑتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے" یہاں اس پہلے مضمون کے ساتھ تہمتیں لگانے کا جوذ کر ملا دیا ہے یہ قابل غور بات ہے کیونکہ میں نے تہمتیں لگانے والوں کے حالات پر جہاں تک غور کیا ہے اور کافی مختلف قسم کے ایسے حالات سامنے آتے ہیں تو ان پر غور کا موقع ملتا ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ ہر تہمت لگانے والا خود کسی بدی میں مبتلا ہوتا ہے اور تہمت لگانا اس بدی کو چھپانے یا اس بدی کا جواز ڈھونڈنے کے نتیجے میں ہوتا ہے۔ایک آدمی جو کسی خاص گناہ میں ملوث ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ کوئی اور شخص ایسا پاکباز ہے جس کی سوسائٹی میں عزت اور قدر ہے تو وہ اگر دیکھتا ہے کہ ایسے شخص پر تہمت کا موقع مل گیا ہے یعنی حالات کے نتیجہ میں ممکن ہے کہ لوگ اس بات کو قبول کر لیں کہ یہ شخص تبھی اس بدی میں مبتلا ہے تو وہ ضرور وہاں تہمت لگائے گا اور عملاً اس سے یہ بتانا ہوتا ہے کہ دیکھو جی ! یہ لوگ سب یہ کر رہے ہیں اور ہم پر باتیں کر رہے ہیں۔عورتیں کہہ دیتی ہیں کہ وہ دیکھو جی پر دے میں کیا کیا کرتی ہے اور میری بے پردگی پر اعتراض ہے اور اس کی اپنی ادا ئیں دیکھو کیا ہیں۔ہر تہمت کے پیچھے ایک