سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 336
336 کہ کس طرح نیکی اسی سرزمین میں جڑیں پکڑتی ہے جہاں پہلے بدیاں پنپ رہی تھیں۔فرمایا: " ہر ایک مرد جو بیوی سے یا بیوی خاوند سے خیانت سے پیش آتی ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے" ہمارے کتنے جوڑے ہیں جن کی زندگیاں اسی لئے برباد ہوئیں کہ کہیں خاوند بیوی سے خیانت کر رہا ہے کہیں بیوی خاوند سے خیانت کر رہی ہے اور یہ خیانت کئی طرح سے ہو سکتی ہے۔حقوق کی ادائیگی میں کمی ، چوری چھپے کچھ تعلقات قائم رکھنا یا ایک ملکیت کو دوسرے کے سپرد کر دینا۔یہ تفاصیل بیان کرنے کا موقع نہیں مگر انسان کے زندگی کے دائروں میں میاں بیوی کے تعلقات کا دائرہ بھی بہت وسیع دائرہ ہے اور اس دائرہ میں ہر قسم کی خیانت کے مضمون بار ہا جگہ پا جاتے ہیں۔ان موقعوں پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ قول پیش نظر رکھ کر غور کریں کہ: ہر ایک مرد جو بیوی سے یا بیوی خاوند سے خیانت سے پیش آتی ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے" جب دین کی تخفیف دیکھو تو اس مجلس سے الگ ہو جاؤ پھر بعض لوگ اپنے تعلقات کو نہیں توڑ سکتے۔ایک شخص ایسی مجلسوں میں بیٹھتا ہے جہاں دین پر طعن آمیزی ہورہی ہوتی ہے تخفیف کی نظر سے فیصلوں کو دیکھا جاتا ہے۔کبھی خلیفہ وقت کے کبھی امیر کے، کبھی کسی اور عہدیدار کے کبھی صدر مجلس خدام الاحمدیہ کے فیصلہ کو، کبھی دوسرے عہدیداران کے فیصلوں کو تخفیف کی نظر سے دیکھا جاتا ہے یعنی اس پر مذاق اڑایا جاتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ جی! دیکھو یہ باتیں ہورہی ہیں۔کیا فضول بات ہے، کیا معنی رکھتی ہے، کئی قسم کے تمسخر کے فقرے کسے جارہے ہوتے ہیں اور ایسی مجلس میں بعض لوگ جا کر بیٹھتے ہیں اور اس مجلس سے علیحدہ نہیں ہوتے۔قرآن کریم نے یہ اصول بیان فرمایا ہے کہ جب دین کی تخفیف کو دیکھتے ہو تفصیل بیان نہیں فرمائی ، ہر قسم کی تخفیف اس میں شامل ہے تو اس وقت تک اس مجلس سے الگ ہو جایا کرو جس وقت تک یہ مضمون جاری ہے۔یہ بہت ہی وسیع حو صلے کی تعلیم ہے۔یہ نہیں فرمایا کہ مستقلاً ان سے قطع تعلق کر لو۔کیونکہ اگر ہر بدی پر فورا پورا قطع تعلق اختیار کر لیا جائے تو پھر ایسے لوگوں کی اصلاح کیسے ممکن ہوگی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ نیک ہیں وہ کلیہ ایک مکمل الگ سوسائٹی بن جائیں اور ان کا بدوں کے ساتھ کسی قسم کا اٹھنا بیٹھنا نہ ہو۔قرآن کریم نے کس حکمت کے ساتھ اس مضمون کو بیان فرمایا کہ جب تک وہ مجلس بد ہے اس مجلس میں تم نے نہیں بیٹھنا۔اگر اس میں بیٹھو گے تو تم بے غیرت ہو گے اور اگر تم بیٹھو گے تو تمہیں نقصان پہنچ سکتا ہے، ہاں جب وہ مجلس بدیوں سے پاک ہو چکی ہو اور رنگ اختیار کر چکی ہو پھر بے شک ان میں واپس جایا کرو اور ملا کر تا کہ تمہاری نیکی کا اثر ان پر پڑے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔۔وشخص مخالفوں کی جماعت میں بیٹھتا ہے اور ہاں میں ہاں ملاتا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے