سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 299 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 299

299 گہرے درد کے ساتھ علیحدگی میں ان کو کہنا ہو گا کہ آپ اپنی بچیوں کی حفاظت کریں ہمیں تکلیف ہوتی ہے۔آپ کا فکر ہے ، آپ کو صدمہ پہنچے گا اور صرف ایک نہیں اور کئی انداز ہیں۔پھر ساتھ اس کے لئے دعائیں کرنے کی بڑی ضرورت ہے۔یہاں اجتماعات پر بھی مجھے بعض نوجوان خدام ایسے ملتے ہیں جو جماعتی کاموں میں نئے نئے شامل ہورہے ہوتے ہیں لیکن کسی کے کان میں بند الٹکا ہوتا ہے اور کسی کا آگے سے بٹن کھلا ہوتا ہے اور خاص طور پر بال دکھائے جار ہے ہیں اور امریکہ میں تو یہ بھی رواج ہے کہ اگر چھاتی پر بال نہ ہوں تو وگ لگ گئے ہیں۔نئی قسم کے وگ بن گئے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ مردانگی کی ایک خاص علامت ہے۔مردانگی کی علامت کیا ہے اور کس کے لئے ہے؟ معصوم بچیوں کے لئے ہے۔ایک پیغام ہے کہ ہم حاضر ہیں۔ایک پیغام ہے کہ ہم تمہیں اُکسانے کے لئے بھی حاضر ہیں۔اب دیکھنے میں ایک چھوٹا سائندا ہے۔دیکھنے میں ایک بٹن کھلا ہے اس سے کیا فرق پڑتا ہے لیکن یہ سارے شیطان کے وہ بھیس ہیں جہاں شیطان عام آدمی کو دکھائی نہیں دیتا لیکن اگر پہچاننے والی نظر ہو تو اس کو صاف دکھائی دیتا ہے۔اب ایسے شخص کو آپ کہہ دیں گے کہ جی ! تم نے بندا پہنا ہوا ہے۔وہ کہے گا۔تم پاگل ہو تمہاری مرضی ہے جو مرضی کرتے پھرو میں تو پہنوں گا۔بٹن کھلا ہے تو تمہیں کیا تکلیف ہے تم بھی کھول لو۔ایسے جواب دیں گے لیکن میں نے دیکھا ہے کہ جن احمدی بچوں کو میں نے پیار سے درد کے ساتھ سمجھایا ہے وہ ضرور سمجھتے ہیں۔جماعت احمدیہ اگر متقیوں کی نہیں تو متقیوں کا دل رکھنے والی جماعت ضرور ہے احمد یوں میں ایک خوبی ہے وہ خوبی یہ ہے کہ انہوں نے مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو قبول کیا ہے۔وقت کے امام کو مانا ہے اس لئے نیکی کی قبولیت کا جذبہ پیدا ہو چکا ہے۔اس جذبہ سے جیسا فائدہ آپ اٹھا سکتے ہیں دنیا میں اور کوئی اصلاح کرنے والا ایسا فائدہ نہیں اٹھا سکتا کیونکہ یہ جماعت اگر متقیوں کی نہیں تو متقیوں کا مزاج رکھنے والی جماعت ضرور ہے۔ایسی جماعت ہے جس کی فطرت کے اندر تقویٰ کا مادہ گوندھا گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس عبارت پر میں اس خطبہ کو ختم کرتا ہوں۔فرماتے ہیں نصیحت کرنا اور بات پہنچانا ہمارا کام ہے۔یوں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس جماعت نے اخلاص اور محبت میں بڑی نمایاں ترقی کی ہے۔بعض اوقات جماعت کا اخلاص، محبت اور جوشِ ایمان دیکھ کر خود ہمیں تعجب اور حیرت ہوتی ہے اور یہاں تک کہ دشمن بھی تعجب میں ہیں۔ہزار ہا انسان ہیں جنہوں نے محبت اور اخلاص میں تو بڑی ترقی کی ہے مگر بعض اوقات پرانی عادات یا بشریت کی کمزوری کی وجہ سے دنیا کے امور میں ایسا وافر حصہ لیتے ہیں کہ پھر دین کی طرف سے غفلت ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔" یہ ہے تذکرہ اس کو کہتے ہیں الہی سمجھانے کا رنگ، پیار اور محبت کے ساتھ ان کے دلوں کو پسمائیں، ان کو مائل کریں، ان کی خوبیوں پر نظر رکھیں، ان کا اعتراف کریں اور پھر ان خوبیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے