سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 298 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 298

298 دیکھی گئی تو کیا آپ کا خیال ہے کہ اس سے فائدہ ہوگا، ہرگز نہیں۔بچی بھی بھڑ کے گی ، ماں باپ بھی بھڑکیں گے، غصہ پیدا ہوگا اور نظام کے خلاف منافرت کی ایک مہم چلائی جائے گی وہ کہیں گے کہ تم پہلے اپنی بچیاں سنبھالو۔ہم نے تمہاری بیٹیاں بھی دیکھی ہوئی ہیں۔فلاں یہ کرتا پھرتا ہے اور فلاں یہ کرتا پھرتا ہے اور جواندر ہو رہا ہے وہ سب کچھ ہمیں پتا ہے۔یہ جوابی حملے کے ٹکسالی جملے ہیں۔یہ ضرور سننے پڑتے ہیں تو اصلاح کی مہم چلانا کوئی معمولی بات نہیں ہے اس میں غیر معمولی حکمت کی ضرورت ہے اور غیر معمولی صبر کی بھی ضرورت ہے۔حکمت سے اگر منصو بہ بنایا جائے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے فائدہ پہنچتا ہے۔ماں باپ کو سمجھاتے وقت محبت اور ہمدردی اور گہرے درد کے ساتھ علیحدگی میں کہنا ہوگا چنانچہ میں کوشش کرتا ہوں کہ جب بھی مجھے کسی گھر کے متعلق معین اطلاع ملے کہ فلاں گھر ہے اس میں یہ خرابیاں پیدا ہورہی ہیں تو مختلف ذرائع سے ان کو سمجھا کر کہ یوں آپ نے کوشش کرنی ہے ان کو تاکید کرتا ہوں کہ اس ذریعہ سے فلاں ذریعہ سے اس احتیاط کے ساتھ اس گھر کو سنبھالنے کی کوشش کریں اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ الاماشاء اللہ اتنا حیرت انگیز طور پر مثبت نتیجہ ظاہر ہوتا ہے کہ دل عش عش کر اٹھتا ہے۔عش عش کر اٹھتا ہے کلام الہی کی سچائی پر، جس میں فرمایا گیا کہ فَذَكَرُ إِن نَّفَعَتِ الذِّكرى (الأعلى: 10 ) نصیحت کر اور یا درکھ کہ اگر نصیحت حقیقی ہو اور سچی ہو، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت جیسی ہو تو وہ ضرور فائدہ دے گی۔پس بہت بڑی مہم ہے جو ہمارے سامنے ہے اور مغربی معاشرے کی صرف ایک ہی برائی میں نے ابھی بتائی ہے۔بہت سے ایسے رجحانات ہیں جو سخت مہلک ہیں۔بعض ان میں سے بڑے ہیں، بعض چھوٹے ہیں لیکن بڑے اور چھوٹے ایک قسم کی مخلوق سے تعلق رکھتے ہیں۔ان کی ایک قبیل ہے، ایک خاص طرز کی وہ بداخلاقیاں ہیں جو ایک دوسرے کو طاقت دیتی ہیں اور دیکھنے میں بعض دفعہ بظاہر ایک چھوٹی سی علامت ظاہر ہوتی ہے اور آپ سمجھتے ہیں کہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے یا جس شخص میں ظاہر ہورہی ہیں وہ سمجھتا ہے کہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔میں نے دیکھا ہے جب نوجوان بچیاں یہ فیصلہ کر لیں کہ ہم نے بد کنا ہے اور قوانین یا اخلاقی قدروں سے باہر نکلنا ہے تو ان کے بالوں کے انداز میں اور ان کے کپڑوں کے انداز میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں ہوتی ہیں اور ہر نظر اس کو پہچان سکتی ہے۔اگر آپ ان کے ماں باپ کو یہ کہیں کہ اس کے بال ایسے تھے تو ماں باپ بھڑک کر کہیں گے تم اس کے بالوں کے متعلق کچھ کہنے والے کون ہوتے ہو؟ اس کا حق ہے جس طرح مرضی رکھے۔آپ کہیں اس کے کپڑے ایسے تھے تو کہتے ہیں تم کون ہوتے ہو ایسا کہنے والے۔اپنی بیٹیوں کے کپڑے سنبھالو۔خبردار جو ہماری بیٹیوں کے کپڑوں پر بات کی۔یہ سمجھانے کا طریقہ نہیں ہے۔علامتیں کچی ہیں۔انہوں نے جو پیغام دیا وہ ضرور سچا ہے لیکن ماں باپ کو سمجھاتے وقت محبت اور ہمدردی اور