سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 300 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 300

300 نیکیوں کی طرف ان کو بلائیں۔ان خوبیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان کو بدیوں سے باز رکھنے کی کوشش کریں۔اس مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: "ہمارا مطلب یہ ہے کہ بالکل ایسے پاک اور بے لوث ہو جاویں کہ دین کے سامنے امور دنیوی کی حقیقت نہ سمجھیں" یہ ہے وہ آخری فیصلے کی طاقت جو ہماری تقدیر کا فیصلہ کرے گی۔اگر ہم انفرادی طور پر اور قومی طور پر یہ مزاج پیدا کرلیں کہ جب بھی دنیا کا مقابلہ دین سے ہوگا دنیا ہارے گی اور دین ضرور جیتے گا تو پھر اس قوم کو دنیا کی کوئی طاقت مار نہیں سکتی۔یہ زندگی کا وہ راز ہے جس کے ساتھ آپ چمٹ جائیں تو ہمیشہ کی زندگی پانے والے بن جائیں گے۔فرماتے ہیں: اور قسم قسم کی غفلتیں جو خدا سے دوری اور مہجوری کا باعث ہوتی ہیں وہ دور ہو جاویں۔جب تک یہ بات پیدا نہ ہواس وقت تک حالت خطر ناک ہے اور قابل اطمینان نہیں کیونکہ جب تک ان باتوں کا ذرہ بھی وجود موجود ہے تو اندیشہ ہے اور ایک وبدہ لگی رہتی ہے کہ کسی وقت یہ باتیں زور پکڑ جاویں اور باعث حبط اعمال ہو جاویں۔جب تک ایک قسم کی مناسبت پیدا نہیں ہوتی تب تک حالت قابل اطمینان نہیں ہوتی۔" ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 605) میں سمجھتا ہوں کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جس طرح فرمایا ہے جماعت میں تقوی، نیکی ، حسن کا مادہ موجود ہے۔اس وقت اگر نصیحت کرنے والے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا انداز اختیار کرتے ہوئے نصیحت کریں تو اُن کو بہت کچھ فائدہ حاصل ہوسکتا ہے۔بہت سے پد کے اور دور جاتے ہوئے احمدی نوجوان یا اُن کے والدین واپس آسکتے ہیں اور آج کل جب کہ ٹیلی ویژن کے ذریعہ تمام دنیا میں خطبات نشر ہور ہے ہی۔اطلاعیں پیل رہی ہیں کہ جماعت میں پہلے سے بڑھ کر ولولہ پیدا ہو گیا ہے۔بڑے جوش اور شوق کے ساتھ بڑے بھی اور چھوٹے بھی کثرت سے آتے ہیں اور اسی ذکر پر اب میں اس بات کو ختم کرتا ہوں کیونکہ اب کثرت سے شکوے آ رہے ہیں کہ پہلے آپ ہمارے متعلق باتیں کیا کرتے تھے۔ہم کیا کرتے ہیں؟ کس طرح دیکھتے ہیں؟ کیا ہوتا ہے؟ بڑا مزا آیا کرتا تھا۔اب ایک دو خطبوں سے آپ نے ذکر نہیں کیا تو شکوہ دور کرنے کے لئے دو باتیں بتا دیتا ہوں ایک تو ایک شخص نے بتایا کہ شوق کا یہ حال ہے کہ بچے بھی بڑی سنجیدگی سے جمعہ کا انتظار کرتے اور اپنے پروگراموں کو اس کے مطابق ڈھالتے ہیں۔اس نے کہا کہ میں نے ایک گھر میں فون کیا تو بچے سے کہا کہ کیا حال ہے؟ اس نے کہا ماں باپ تو ابھی آئے نہیں مگر کل کیونکہ جمعہ ہے اور صبح جلدی خطبہ سننا ہے۔( یہ امریکہ کی بات ہے ) اس لئے میرا چھوٹا بھائی ابھی سوچکا ہے اور میں فوراً سونے جار ہا ہوں۔میرے پاس زیادہ باتوں کا وقت نہیں ہے تو اب اس بچے کو پتا تھا کہ صبح جلدی