سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 256 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 256

256 ہے کہ جب آپ نماز نہیں بھی پڑھ رہے ہوتے تھے تو دل نماز میں اٹکا ہوتا تھا۔یہ وہی کیفیت ہے جو میں نے بیان کی ہے کہ خدا کے حضور با قاعدہ حاضری دینے کا تصور اتنا پیارا لگتا تھا اور اس سوچ میں آپ گم رہتے تھے کہ کب میں جاؤں گا اور کیا کیا با تیں اُس با قاعدہ نماز کی حالت میں کروں گا اور پانچ وقت نہیں پانچ وقت سے زیادہ مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے حضور با قاعدہ حاضر ہوتے تھے لیکن تعلق کا یہ عالم تھا اور خدا کی عظمت کا وہ ایک عظیم اثر آپ کے دل پر ایسا متسلط تھا، قائم ہو چکا تھا کہ ہر روز کی بار بار کی ملاقات بھی اُس اثر میں کمی پیدا نہیں ہونے دیتی تھی ، اس جذبے کو ہلکا نہیں کر سکتی تھی بلکہ دن بہ دن جہاں تک آپ کی عبادات کا حال درج ہے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ تعلق بڑھتا ہی گیا اور دل نمازوں میں ہی انکا رہا۔پس یہ ایک ایسی چیز نہیں ہے جو صرف بیان کرنے سے آ جائے یہ دل کے اندرونی تجربے کا نام ہے اور دل کا اندرونی تجربہ حاصل کرنے کے لئے محنت کرنی پڑے گی اور صحیح طریق پر صحیح رخ پر قدم اٹھانے پڑیں گے۔اسی لئے میں کوشش کرتا ہوں کہ جیسے بچے کو ہاتھ پکڑ کر چلایا جاتا ہے، جماعت کو بار بار نماز کے متعلق ہاتھ پکڑ پکڑ کر چند قدم چلا کر دکھاؤں کہ اس طرف نماز کا رُخ ہے، ایسی نماز جہاں نصیب ہوتی ہے اور اس طرح ادا کی جاتی ہے۔پس وہ لوگ جو نمازوں میں سست ہیں ، بہت بڑے محروم ہیں۔اُنہوں نے اپنی زندگیاں ضائع کر دیں اور آئندہ کے لئے بھی اُن کو کچھ حاصل نہیں ہوسکتا۔خصوصیت کے ساتھ جماعت جرمنی کو اس امر کی طرف توجہ کرنی چاہئے اور تمام ذیلی تنظیموں کو بھی اس بات پر مستعد ہو جانا چاہئے کہ اُن کا کوئی ممبر بھی بے نمازی نہ رہے اور جہاں تک افراد کا تعلق ہے جیسا کہ میں نے آپ کے سامنے یہ بات رکھی ہے۔نماز کے وقت آپ اگر صرف یہ کوشش کر لیں کہ نماز میں کوئی ایک حالت آپ کو ایسی نصیب ہو جائے کہ خدا تعالیٰ سے بات کرتے ہوئے آپ کے دل میں تموج پیدا ہو، ایک تحریک پیدا ہو جیسے کسی پیارے سے جب آپ ملتے ہیں تو اُس کی بعض باتیں یا درہ جاتی ہیں۔اُن ملاقاتوں کے بعض لمحات ایسے دل پر نقش ہو جاتے ہیں کہ ہمیشہ انسان اُن کی سوچوں سے ہی لطف اندوز ہوتا رہتا ہے۔نماز میں بھی کچھ اسی قسم کی کیفیات پیدا ہونی ضروری ہیں۔وہی نماز میں زندہ ہیں جو دل میں حرکت پیدا کردیں، جو ایک ایسا تموج پیدا کر دیں جس کی لہریں دیر تک باقی رہیں اور آپ کے دل و دماغ میں اُن کے نغمگی گونجتی رہے، اُن کا ترنم آپ کو لطف پہنچاتا رہے۔" (خطبات طاہر جلد 11 صفحہ 640-641)