سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 257
257 جس عہدیدار کو جماعت نے چنا اور خلیفہ وقت نے صاد کیا وہ عہد یدار ضرور تائید یافتہ ہے (خطبہ جمعہ 27 نومبر 1982ء) " تیسرے درجے پر وہ امراء ہیں جن کی سپر د جماعتوں کی ذمہ داری کی جاتی ہے۔جہاں تک امراء کا تعلق ہے اُن کی حیثیت دو طرح سے ہے۔ایک حیثیت وہ ہے جس میں اُس علاقے کے عوام نے اس خیال سے اُن کو منتخب کیا کہ وہ امین ہیں اور ایک اس لحاظ سے کہ اُس انتخاب پر خلیفہ وقت نے صاد کر دیا۔پس اگر چہ خدا تعالیٰ کے تقرر کے لحاظ سے واسطہ در واسطہ پڑ چکا لیکن جس خلیفہ کو خدا نے عملاً منتخب فرمایا اُس کا بھی صاد ہو گیا اور پوری عوام کا صاد بھی ہو گیا جن کی نمائندگی نے پہلے خلیفہ چنا تھا اس لئے امارت کو بھی ایک غیر معمولی اہمیت حاصل ہے اور امین پر جو امانت کا بوجھ ڈالا جاتا ہے بڑا مقدس بوجھ ہے اور اسی تقدس کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہمیشہ امراء کو اپنے فرائض سرانجام دینے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے۔بعض دفعہ بعض جاہل علاقوں میں عہدوں کو براہ راست عزت کا ذریعہ سمجھا جانے لگتا ہے اور جس طرح سیاست میں کسی منصب کو عزت کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، اسی طرح اُن جماعتی اور دینی عہدوں کو بھی بعض لوگ عزت کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور عزت کے حصول کے لئے کوشاں رہتے ہیں اور عزت کے حصول کی خاطر عہدے سنبھالتے ہیں اور ان کے پیچھے بعض دفعہ اُن کے خاندان کے، اُن کے تعلق والوں کے جتھے بن جاتے ہیں۔اگر چہ جماعت احمدیہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسلسل اس بات پر نگاہ رہتی ہے کہ کسی قسم کا کوئی پروپیگینڈا عہدوں کے انتخاب کے وقت نہ ہولیکن بعض دفعہ بغیر پرو پیگنڈے کے بھی یعنی ایسے پروپیگنڈے کے بغیر بھی جو ذمہ دار عہدیداران کو سنائی دے عملاً پروپیگنڈے کا رنگ ہوتا ہے۔بعض برادریاں بعض عہدوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتی ہیں، بعض دوستوں کے جتھے بعض عہدوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور بظاہر ایک ایسے شخص کو امین بنایا جاتا ہے جس کو خدا کی جماعت نے منتخب کیا ہے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ جہاں نیتیں بھی بگڑ جائیں وہاں خواہ وہ انتخاب جماعت کا ہو یا خواہ اُس پر خلیفہ وقت صاد کر دے،اسے خدا کی تائید حاصل نہیں رہتی۔پس یہاں پہنچ کر مضمون ایک اور فضاء میں داخل ہو جاتا ہے۔یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ہر عہدے دار جس کو جماعت نے چنا اور جس پر خلیفہ وقت نے صاد کیا ، وہ عہرے دار ضرور تائید یافتہ ہے اور ضرور امین ہو گا۔جہاں تک خلیفہ وقت کا تعلق ہے اس مضمون پر حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بہت عمدہ روشنی ڈالی ہے۔جب یہ سوال اٹھایا گیا کہ ایک خلیفہ بھی تو غلطی کر سکتا ہے اور بھی کچھ باتیں اُس زمانے میں کی گئیں جو دراصل اہل پیغام کی طرف سے ایک مخفی پرو پیگنڈے کی صورت میں جاری وساری تھیں اور سوسائٹی