سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 255 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 255

255 کتنا پیارا صاف ستھرا پاکیزہ بیان ہے اور عزتیں حاصل کرنے کا کیسا عمدہ طریق بیان فرمایا۔فرمایا۔اِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ اب پہلے تو اپنی نیتوں کو پاک صاف کر کے بات کرو۔وہی بات خدا کے ہاں قبول ہوگی اور اس کی درگاہ میں قبولیت پائے گی جو طیب ہو۔طیب ایسی بات کو کہتے ہیں جس میں جھوٹ کی دور کی بھی ملونی نہ ہو۔ادنی سی بھی ملونی نہ ہو صاف نیت سے بات کی گئی ، پاک لفظوں میں بیان کی گئی نہایت ہی خوبصورت مہکتے ہوئے انداز میں سچائی کے ساتھ وہ بات پیش کی گئی نیت بھی پاک تھی ، طرز بیان بھی پاک اور بالآخر اس کا انجام بھی پاک تھا اس کو کہتے ہیں کلمہ طیبہ۔فرمایا طیبہ ہے جو خدا تک پہنچتا ہے عزت کے حصول کے لئے وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ اور اس کلمہ کو اونچا کرنے کے لئے عمل صالح کی ضرورت ہے صرف منہ کی پاک با تیں نہ ہوں بلکہ نیک اعمال ان باتوں کو تقویت دے رہے ہوں ان پروں کو توانائی بخشیں کہ وہ پر چل تو سکیں۔پروں میں طاقت ہی نہ ہو تو وہ کیسے پرواز کریں گے۔پس کلام کو جو پاکیزہ ہو ایک پرندے کی طرح پیش فرمانا جس میں اُڑنے کی سکت ہے مگر وہ نیک اعمال سے طاقت لیتا ہے۔اگر نیک اعمال نہیں ہیں تو کلمہ طیبہ میں اڑنے کی طاقت نہیں ہوگی۔فرمایا یہی وہ طریق ہے جس کے ذریعہ تم عزتیں حاصل کرتے ہو۔عزتیں ساری اللہ کے پاس ہیں اور عزت کا سوال وہاں تک کیسے پہنچتا ہے فرمایا۔نیک باتوں کے ذریعہ، پاکیزہ باتوں کے ذریعہ ، ایسی پاک باتوں کے ذریعہ جن کو اعمال صالحہ طاقت بخشتے ہوں۔پس اگر جماعت کا کوئی عہدیدار اپنی سچائی اور پاکیزگی کی وجہ سے ہر دلعزیز بنا ہو ، اگر اُس کے نیک اعمال انتخاب کے وقت پیش نظر ہوں تو یقیناً جو وہ مقام پا گیا ہے وہ عزت کا مقام ہے وہ یقیناً ایسا مرتبہ ہے جو اُس کے لئے آسمان سے نازل ہوا ہے۔" خطبات طاہر جلد 11 صفحہ 601-605) ذیلی تنظیموں کا کوئی ممبر بے نمازی نہ رہے (خطبہ جمعہ 11 ستمبر 1992ء) اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا تصور اگر صحیح ہو تو انسان کے دل و دماغ پر اتنی قوت کے ساتھ قبضہ جمائے گا کہ اس کی کوئی اور مثال دنیا میں دکھائی نہیں دے گی اور یہ ایک ایسی چیز ہے جو اگر عارف باللہ کے حالات پر غور کیا جائے تو عارف باللہ کے آئینے سے دکھائی دے سکتی ہے۔روز مرہ کی زندگی میں عام انسان اس حقیقت کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ بتایا جاتا ہے، احادیث میں لکھا