سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 254
254 وہ خدا کی خاطر تو دیا ہی نہیں جارہا، نقصان اگر ہے تو جماعت کا ہے۔اس کو کیا فرق پڑتا ہے اس کو تو صرف ووٹ ملتا ہے۔پھر وہ اس بات میں بھی بعض دفعہ مدد کرتا ہے کہ جی ! تمہارا بنتا ہی اتنا ہے اور اگر سیکرٹری مال کہے کہ تمہارا زیادہ بنتا تھا تو اُس کے ساتھ جھگڑا کریں گے کہ تم انکم ٹیکس کے انسپکٹر لگے ہو تمہیں کیا پتا۔جھوٹ کا الزام لگاتے ہو چپ کر کے لے لوجو دیا جاتا ہے یہی تھا جو بنتا تھا یہی دیا جارہا ہے۔شروع سے آخر تک دھوکہ ہی دھوکہ اور فساد ہی فساد Exercise ہے اور یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ کسی کو پتا نہیں چل رہا۔جب رپورٹیں آتی ہیں تو چاہے وہ امریکہ سے آرہی ہو یا پاکستان کے کسی گاؤں سے آرہی ہو ان رپورٹوں پر پتلی سے جھلی ہے فلم ہے دھوکوں کی اس کے آر پار صاف دھوکہ دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔جب فہرستیں دیکھتا ہوں تو حیران ہو جاتا ہوں کہ ان لوگوں نے کتنا ظلم کا سودا کیا ہے۔پیسے ضائع کر دیئے اور شیطان کے حضور ڈالے نام خدا کا لیا۔پھر دوسرے لوگ ہیں وہ یہ شکوے شروع کر دیتے ہیں کہ جناب آپ لوگوں کے نزدیک مال کی قیمت ہے تقویٰ کی کوئی قیمت نہیں ہے۔یہ نظام جماعت ہے جس میں چندے لے کر ووٹ بنتے ہوں، پیسے وصول کر کے ووٹ بنتے ہیں خواہ کوئی نماز پڑھتا ہے یا نہیں پڑھتا۔اُن کا اعتراض اگر بنیادی طور پر فی ذاتہ درست بھی ہو تب بھی اُن کی طرف سے دراصل یہ دھوکہ بازی ہے کیونکہ سارا سال جس بھائی نے نماز نہیں پڑھی اس کے لئے اُن کا دل بے چین نہیں ہوا۔سارا سال جس بھائی نے تقویٰ کے اوپر قدم نہیں مار اس کے لئے ان کو کوئی تکلیف نہیں پہنچی، کوئی کوشش نہیں کی نظام جماعت کو اس وقت اطلاع نہیں کی جب ان کی اصلاح کا وقت تھا اب الیکشن کے موقع پر ان کے تقویٰ کی راہ سے ہٹ جانے کا خیال ان کو کیسے آگیا؟ الیکشن کے موقع پر ان کی بے نمازیاں کیوں اُن کو چھنے لگیں صاف ظاہر ہے کہ تکلیف اپنے منتخب نہ ہونے کی یا اپنے کسی ساتھی کے منتخب نہ ہونے کی ہے نہ کہ کسی کی بے راہ روی کی تو تقویٰ کی راہیں بڑی باریک ہیں اور یہ مکر جو ہے یہ ہر چیز میں چلتا ہے نیکی کے نام پر بھی چلتا ہے۔کھلی کھلی بدی کے طور پر تو مکر چلتا ہی ہے لیکن بڑے بڑے نیک ناموں پر مکر چل رہا ہوتا ہے۔پس جماعت کے عہدوں کو ، جماعت کے نظام کو جو لوگ جھوٹی عزتوں کا ذریعہ بناتے ہیں ان کے لئے میں قرآن کریم کے الفاظ میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ من كَانَ يُرِيْدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا (فاطر: 11) یادرکھو جس کو عزت چاہئے ، اللہ ہی کے پاس عزت ہے اس کے سوا آپ کو کوئی عزت نصیب نہیں ہوسکتی۔خدا کے نظام سے دھوکہ کر کے ، فریب کاریوں کے ذریعہ ، نظام کی جڑیں کھوکھلی کر کے اور مسلسل دھڑے بازیوں میں مبتلا ہو کر اگر آپ عزت چاہتے ہیں تو کوئی عزت نہیں ملے گی۔عزت کیسے ملے گی؟ فرمایا اِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ (فاطر : 11)