سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 253 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 253

253 معاملات ایسے ہیں ، بعض جگہیں ایسی ہیں جو ان باتوں میں دیر سے بدنام ہیں، بعض بستیاں ایسی ہیں جہاں ہیں ہیں سال سے یہ جھگڑے چلے ہوئے ہیں کہ عہدے پر کون سادھڑ ا قابض ہو اور جتنی تدبیریں چاہیں آپ اختیار کر لیں جتنے کمیشن چاہیں بھجوا د میں مجال ہے کہ وہ لوگ ٹس سے مس ہوں۔جب انتخاب کرواتے ہیں دوسرے فریق کی طرف سے شکائتوں کی طومار شروع ہو جاتی ہے اور یہ لکھنے لگ جاتے ہیں کہ جی ! فلاں نے دھوکہ دیا، فلاں نے دھوکہ دیا ، فلاں نے دھوکہ دیا یہ انتخاب بے معنی ہے اور اگر کوئی لوکل دھو کہ نظر نہ آئے تو آنے والے پر الزام لگاتے ہیں کہ جی آپ نے جو ناظر بھیجا تھا ناں وہ بڑا حریص تھا۔وہ فلاں کی روٹی کھا گیا ہے۔اس لئے اس کے حق میں اُس نے یہ انتظام کروایا۔میں نے ایسی جماعتوں کی اصلاح کی بہت کوشش کر کے دیکھی ہے لیکن میری بس نہیں گئی اس وقت میری نظر اس آیت کریمہ پر پڑی کہ جس کو خدا گمراہ قرار دے دے ہوتا کون ہے اس کو ٹھیک کرنے والا۔ان کی گمراہی ان کے مکر سے وابستہ ہے۔ان لوگوں نے نظام جماعت کو کھیل بنایا اور جھوٹی عزتوں کے حصول کا ذریعہ بنایا اور چالبازیوں سے عہدوں کو حاصل کرنے کی کوشش کی پس ان کے لئے خدا کا فیصلہ یہ ہے کہ ان کے لئے کوئی ہدایت نہیں ہے جب تک یہ اس بدبختی سے باز نہیں آتے ، جب تک جماعت کے عہدے کو ایک ذمہ داری نہیں سمجھتے جس کا اُٹھانا بہت بڑی ہمت کا کام ہے دعا اور خوف اور انکسار کے ساتھ اگر انسان اس لئے قبول کرے کہ اگر میں نہیں کروں گا تو پھر کون کرے گا اس وقت ایسا شخص بری الذمہ ہو جاتا ہے۔اس پر کوئی حرف نہیں آتا اس کا کسی جماعتی عہدہ کو قبول کرنا ہی بہت بڑی قربانی ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ جزا پائے گا لیکن ووٹوں میں چالاکیاں جیسا کہ بعض رپورٹیں آتی ہیں کہ کچھ لوگوں نے سارا سال چندہ نہیں دیا لیکن جن کی خواہش کوئی عہدہ قبول کرنے کی ہوتی ہے وہ اپنے ساتھیوں کے چندے اکٹھے کرتے پھرتے ہیں اور انتخاب سے کچھ دیر پہلے وہ سارے سال کا بقایا اکٹھا کر کے سارے روپے سیکرٹری مال کے حضور پیش کر دئیے جاتے ہیں۔اس سے رسید لی جاتی ہے۔پھر انتخاب کا وقت آتا ہے اس وقت وہ رسید صدر انتخاب کے حضور پیش کر دیتے ہیں کہ دیکھ لیجئے چندہ پورا ہو گیا۔شروع سے آخر تک ساری کارروائی ہی شرارت ہے، ظلم ہے وہ چندہ کیسا جو خدا کے نام پر دیا جارہا ہے اور دیا بتوں کو جا رہا ہے ایسا ذلیل اور مکروہ چندہ تو اُن لوگوں کے لئے عذاب کا موجب بنے گا نہ کہ اُن کے لئے کسی ثواب کا باعث ہوگا اور بُت اُن کا وہ شخص ہے جس کی خاطر انہوں نے ووٹ بنوانے کے لئے سارے سال کا بقایا پیش کیا اور اس میں بھی بہت سی مخفی چالاکیاں ہیں جن پر میری نظر پڑتی ہے تو میں حیران رہ جاتا ہوں لیکن مجبوری ہے۔اس کی زیادہ تفصیل سے چھان بین کی نہیں جاسکتی۔بعض ایسے آدمی میرے علم میں ہوتے ہیں جن کو بہت زیادہ چندہ دینا چاہئے اگر وہ خدا کی خاطر چندہ دیتے تو اُن کا بقایا دس ہزار بنتا لیکن انہوں نے جس بت کی خاطر چندہ دیا ہے وہ تو ہر بیان کو قبول کرے گا وہ تو یہ چاہے گا ووٹر بن جائے سہی، کم سے کم دے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ