سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 250 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 250

250 جائیں اور اتفاقاً وہ سعادتیں آپ تک پہنچ جائیں۔وہ ایسی سعادتیں ہیں کہ جن کی طرف چل کر جانا ہوگا۔کچھ پھلوں کو لینے کے لئے ہاتھ بڑھانا ہوں گے، کچھ تو کوشش کرنی ہوگی اس کوشش اور جدوجہد کی طرف میں آپ کو بلاتا ہوں اور آخر پر انہی الفاظ میں بلاتا ہوں جن الفاظ میں مسیح ناصری نے اپنے ماننے والوں کو خدا کی راہ میں قربانیاں کرنے کے لئے بلایا تھا اور جو دراصل مسیح محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز تھی جو آغاز میں مسیح ناصری کے ذریعے اٹھائی گئی۔میسیج ناصرٹی کے ذریعہ جو انصار پیدا ہونے تھے ان کو تمام دنیا کو ایک جگہ جمع کرنے کی سعادت نصیب نہیں ہوئی تھی لیکن مسیح محمدی کے ذریعے انصار اللہ کا جو نیا دور چلنا تھا ان کو تمام دنیا کی فتوحات کی بشارتیں دی گئی ہیں۔پس انہی الفاظ میں میں آپ کو پھر مسیح محمدی یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی غلامی میں اس منصب پر فائز ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز فرمایا ہے اور آپ کو خدا کی طرف نصرت کے لئے بلاتا ہوں اور یہ اعلان کرتا ہوں۔مَنْ اَنْصَارِی إِلَى اللهِ کون ہے جو میرے انصار کی جماعت میں داخل ہو اللہ کی خاطر یعنی مسیح موعود علیہ السلام کے انصار کی جماعت میں اللہ کی خاطر داخل ہو۔اسی اسلوب میں اسی طرز میں ، انہی اداؤں کے ساتھ جن اداؤں کا قرآن کریم میں ذکر فرمایا گیا ہے۔اگر آپ سچے دل سے اس آواز پر لبیک کہیں گے تو میں آپ کو فتح قریب کی خوشخبری دیتا ہوں اور کوئی نہیں ہے جو اس خوشخبری کو ٹال سکے۔آمین" خطبات طاہر جلد 11 صفحہ 89-103) تمام افراد جماعت دعوت الی اللہ کے لئے منصوبہ بندی کریں خطبہ جمعہ 14 فروری 1992ء) "دعوت الی اللہ کرنے والوں میں بڑی عمر کے لوگ بھی ہیں چھوٹے بچے بھی ہیں، عورتیں بھی ہیں، مرد بھی ہیں، کالج کی پڑھنے والی لڑکیاں بھی ہیں اور کام کرنے والے لوگ ہیں ، ہر ایک کے حالات مختلف ہیں ، ہر ایک کا علم مختلف ہے ، ہر ایک کو مختلف وقتوں میں مختلف دنوں میں وقت میسر آتے ہیں اور ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جو کسی مرکزی کلاس میں شامل ہو ہی نہیں سکتے لیکن نیک ارادہ رکھتے ہیں۔ان سب کو میری نصیحت یہ ہے کہ وہ سب سے پہلے تو دعا کریں، دو نفل پڑھیں۔اللہ تعالیٰ سے مدد چاہیں اور خدا سے یہ عرض کریں کہ اے خدا! تو جانتا ہے کہ ہمارے پاس بہت ہی معمولی ذرائع ہیں اور ہمیں ہر لحاظ سے کمزوری کا احساس ہے اپنی بے بسی کا احساس ہے۔اس لئے آج ہم تیری خاطر منصوبہ بنانے کے لئے بیٹھے ہیں تو ہمیں روشنی عطا فرما اور ہمیں توفیق عطا فرما کہ جو منصوبہ بنائیں تیری رضا کو حاصل کرنے والا ہو اور جو منصوبہ بنائیں