سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 249
249 لے کر دوبارہ آپ کے سامنے آیا ہے۔انصار کا حق ادا کرنے سے سورۃ نصر میں بیان فتوحات جلد ملیں گی پس اگر آپ انصار ہونے کا حق ادا کریں گے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے۔جان مال عزت جو کچھ بھی ہے خدا کے حضور پیش کریں گے اور ایک لگن لگالیں گے ، ایک دھن سر پر سوار کر لیں گے کہ ہم نے ضرور احمدیت کو فتح یاب کرنا ہے اور دعوت الی اللہ کے ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں کثرت سے لوگوں کو داخل کرنا ہے تو پھر نصرت کا وہ وعدہ جس کا سورہ نصر میں ذکر ہے کہ فوج در فوج لوگ داخل ہوں گے اس وعدے کو آپ اپنی آنکھوں سے پورا ہوتے دیکھیں گے اور اگر ہم ان نصیحتوں پر عمل کریں جو قرآن کریم نے ہمارے سامنے رکھی ہیں اور اس خلوص اور وفا کے ساتھ عمل کریں جس کی توقع کی جاتی ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ ہرگز بعید نہیں کہ اس صدی میں ہی تمام دنیا پر اسلام غالب آ جائے۔اس صدی کے آخر تک تو ہم میں سے شائد ہی کوئی پہنچے یعنی اگر ان میں سے پہنچے تو وہ بچے پہنچیں گے کہ جو میری بات کو سنیں بھی تو سمجھ نہیں سکتے۔لیکن اس صدی میں کیا ہوگا ہم اپنی زندگیوں میں یہ ضرور دیکھ سکتے ہیں اگر ہم اپنی کوشش کو انتہا تک پہنچادیں اور جیسا کہ اس مضمون کا حق ہے منصوبہ بنا ئیں۔صرف جماعتی منصو بہ نہ بنا ئیں بلکہ انفرادی منصوبے بنائیں ، دعائیں کریں، جد و جہد کریں، دن رات اس کام میں اپنے دل کو لگائیں اور اپنے ذہنوں کی سب سے بڑی فکر یہ بنالیں تو مجھے یقین ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے ہر جگہ عظیم الشان انقلاب رونما ہونے شروع ہو جائیں گے اور ہم صرف وعدوں پر نہیں جئیں گے بلکہ ان وعدوں کو پورا ہوتے دیکھ لیں گے جیسے بعض دفعہ برسات آنے سے پہلے ہوائیں چلتی ہیں جو بتا دیتی ہیں کہ برسات آنے والی ہے پس آپ صرف ان ہواؤں کو ہی نہیں دیکھیں گے بلکہ پھر برسات کے ابتدائی چھینٹوں کو بھی دیکھ لیں گے اور کوئی بعید نہیں کہ بعض جگہ کے ملکوں میں وہ زور سے برستی ہوئی بارش کو بھی پالیں اور ایسا بعض جگہ ہونا شروع ہو چکا ہے۔پس دنیا کے سب احمد یوں کو چاہئے کہ وہ اپنے مقام اور مرتبہ کو سمجھیں۔مسیح محمدی کے ذریعہ انصار اللہ کا نیا دور گزشتہ جمعہ میں ان سعادتوں کا جو میں نے ذکر کیا تھا۔اس کے متعلق مجھے خطوط آرہے ہیں اور احمدی جائز طور پر خدا کے حضور سر بسجود ہیں کہ ان کا ذکر قرآن کریم میں اس رنگ میں فرمایا گیا اور یہ عظیم سعادت انہیں نصیب ہوئی کہ دنیا کو جمع کرنے کی بعض نئی صورتیں بھی انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔میں ان کو بتا تا ہوں کہ یہ سعادت تو ہمیں اللہ کی طرف سے نصیب ہو گئی لیکن اس سعادت کے پیچھے جو سعادتیں کثرت کے ساتھ ہماری منتظر ہیں ان کی طرف چل کر جانا ہوگا۔وہ ایسی سعادتیں نہیں کہ آپ کسی وقت پیدا ہو