سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 251
251 وہ ثمر دار بنے اس کو پھل ملیں اور پھل لگنے تک جو محنت مجھے کرنی چاہئے مجھے اس محنت کی توفیق بھی عطا فرما۔یہ دعا کر کے دو نفل پڑھ کے اگر کوئی شخص منصوبہ بنانے کے لئے بیٹھے گا تو یقیناً اس کے بعد وہ کام شروع ہو جائے گا اکثر دعوت الی اللہ کرنے والے جو غافل ہیں وہ اس لئے ہیں کہ نہ وہ دعا کرتے ہیں نہ سنجیدگی سے اپنی ذات کے لئے کوئی منصوبہ بناتے ہیں۔آپ کے علم میں مختلف طبقات کے احمدی ہوں گے آپ ان پر نظر ڈال کر دیکھ لیں، اپنے نفس کا بھی جائزہ لے کر دیکھیں آپ کو معلوم ہوگا کہ دعوت الی اللہ کی خواہش تو پیدا ہوئی لیکن عملاً ٹھوس کام کرنے کی طرف بہتوں نے پہلا قدم بھی نہیں اُٹھایا۔تعلقات کے دائرے ہیں وسیع سوشل رابطے موجود ہیں لیکن یہ سمجھ نہیں آتی کہ دعوت الی اللہ کیسے کریں گے؟ سکول جانے والے بچے ہیں ، بچیاں ہیں اگر وہ چاہیں تو اپنے دائرے میں تبلیغ کی توفیق مل سکتی ہے مگر کیسے کریں اس کی ان کو سمجھ نہیں آتی اس لئے باہر سے جو پیغام ان کو ملتے ہیں کہ تبلیغ کرو، وہ کوئی نتیجہ نہیں پیدا کر سکتے۔پس ہر شخص کو بیٹھ کر جیسا کہ میں نے کہا ہے دعا کرنے کے بعد اپنا منصو بہ خود بنانا چاہئے مثلاً ایک سکول کی بچی جب کاغذ لے کر بیٹھے گی تو پہلے تو خالی دماغ کے ساتھ اس کو سمجھ نہیں آئے گی کہ کیا لکھوں، کیسے منصوبہ بناؤں؟ یہ جو بے بسی کا احساس ہے یہ کچھ دیر رہے گا پھر وہ سوچے گی اور غور کرے گی تو کہے گی اچھا! میری فلاں فلاں سہیلیاں ہیں، فلاں جس ہے اس کے ساتھ میرے اچھے تعلقات ہیں تو میں ان کو کوئی لٹریچر دے دیتی ہوں ان کو گھر پر دعوت پر بلا لیتی ہوں۔اپنے امام صاحب کو یا کسی اور بزرگ سے درخواست کرتی ہوں کہ میں اپنی سہیلیوں کو یا اپنی مس وغیرہ کو دعوت پر بلانا چاہتی ہوں آپ اگر تشریف لا سکیں یا آپ کی بیگم میں یہ صلاحیت ہو کہ ان سے گفتگو کرسکیں تو وہ آجائیں یا پھر لجنہ سے درخواست کر سکتی ہے غرضیکہ اس کے منصوبے کا آغاز ہو جائے گا۔پھر آگے منصوبہ کیسے بڑھے اس سلسلہ میں جب میں یہ مضمون آگے بڑھاؤں گا تو اس بچی کو جس کے متعلق میں سوچ رہا ہوں کہ وہ اس طرح کاغذ لے کر منصوبہ بنانے کیلئے بیٹھے گی اور چھوٹوں بڑوں سب کو کئی قسم کے اور خیالات، کئی قسم کے ایسے طریق معلوم ہوں گے جن کے ذریعہ وہ خدا کے فضل سے اپنے لئے چھوٹا سا منصوبہ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔" خطبات طاہر جلد 11 صفحہ 111-112) ذیلی تنظیمیں خدا کے واسطے اپنی نسل کو صحیح تلاوت سکھا دیں خطبہ جمعہ 6 مارچ 1992ء) " تلاوت کی عادت ڈالنی چاہئے۔ہر بچے کو آپ جب تلاوت کی عادت ڈالنے کی کوشش کریں گے تو آپ کو یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ اکثر بچوں کو تلاوت کرنی ہی نہیں آتی اور وہ جو میں کئی سال سے انصار خدام