سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 181
181 رفتہ رفتہ عام گھاس کے میدان سے ہٹ کر ہری بھری وہ گھاس نظر آئے جو بادشاہ کی رکھ میں خاص طور پر پائی جاتی ہے تو دل میں حرص پیدا ہو جاتی ہے، لالچ پیدا ہو جاتی ہے اور پھر وہاں منہ مارنے سے انسان اپنے آپ کو روک نہیں سکتا ، اسی طرح گپوں کا حال ہے۔یہ کہیں بھی در حقیقت No Man's Land ہیں جو پھر بالآخر جھوٹ میں داخل ہو جاتی ہیں اور گپ کی وجہ سے جھوٹ کی شرم اُٹھتی چلی جاتی ہے اس لئے گپ شپ کی مجالس میں بھی اگر آپ احتیاط نہیں کریں گے اور بار بار اپنے آپ کو غلط بیانی سے اور مبالغہ آمیزی سے روکیں گے نہیں تو لازم ہے کہ آپ چلتے چلتے پھر جھوٹ میں بھی داخل ہو جائیں گے اور اس طرح ایسی ابتدائی صورت میں جھوٹ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔غیر ذمہ داری کی بات کرنا بھی جھوٹ کی طرف لے جاتا ہے ایک دوسری عادت جو ہمارے ملکوں میں ہے وہ غیر ذمہ داری کی بات کرنا ہے۔اُس کے نتیجہ میں بھی انسان بالآ خر جھوٹ بولنے کا عادی ہو جاتا ہے یا بعض دفعہ شرم محسوس کر کے مجبوراً اپنے آپ کو ایک قابل شرم بات سے بچانے کے لئے جھوٹ کی پناہ لینے پر مجبور ہو جاتا ہے اور ایک جھوٹ سے پھر دوسرا جھوٹ، دوسرے جھوٹ سے تیسرا جھوٹ شروع ہو جاتا ہے۔غیر ذمہ داری کی مثال یہ ہے کہ آپ نے کسی سے پوچھا فلاں بات ہو گئی ہے؟ تو اُس نے جھوٹ نہیں بولا اندازہ لگایا کہ ہوگئی ہے اور کہہ دیا کہ جی! ہوگئی ہے۔آپ جب جستجو کرتے ہیں تو وہ بات نہیں ہوئی ہوتی تو یہاں وہ پھنس جاتا ہے۔پھر یہ بتانے کے لئے کہ اُس نے بیچ بولا تھا، بجائے سچ بولنے کے اور یہ کہنے کے کہ مجھ سے غلطی ہوئی تھی ہیں نے اندازہ لگایا تھا۔وہ یہ کہتا ہے کہ فلاں شخص نے مجھ سے یہ بات کی تھی اور اس کا یہ مطلب نکلتا تھا۔چنانچہ میں نے بیچ بولا ہے، فلاں شخص نے جھوٹ بولا تھا اور اس طرح ایک سے دوسری ، دوسری سے تیسری بات نکلتی چلی جاتی ہے۔مجھے بار ہا تجربہ ہوا ہے کہ ایسے لوگ جو غیر ذمہ دارانہ باتیں کرتے ہیں وہ بالآ خر جھوٹ بولنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔بات کو ذمہ داری سے کرنا چاہئے۔جتنی بات معلوم ہے اتنی کرنی چاہئے جو معلوم نہیں اس کے متعلق اقرار کرنا چاہئے کہ مجھے معلوم نہیں ہے۔یہ تو عمومی معاشرے کی باتیں ہیں جن میں انسان کو احتیاط کرنی چاہئے۔پھر لطیفہ گوئی کی خاطر جیسا کہ گپ شپ کی مجالس میں ہوتا ہے چونکہ لطیفہ فرضی بات ہے، ہنسانے کی خاطر کی جاتی ہے اس لئے بعض بچے یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ واقعات کی دُنیا میں بھی ہنسانے کے لئے اگر جھوٹ بولا جائے تو وہ لطیفہ ہوگا اور اس بد احتیاطی کی وجہ سے بھی ہمارا بہت سے خاندانوں میں جھوٹ کی عادت پڑ جاتی ہے۔ایک نیچے نے آ کے گپ مار دی اور لوگوں میں پہیجان پیدا کر دیا۔کچھ دیر کے بعد کہا کہ نہیں نہیں۔اصل بات تو یوں تھی اور وہاں لطف اٹھایا اور سارے لوگ ہنس پڑے کہ اس نے خوب شرارت کی تھی۔اس کا نام شرارت رکھ دیتے ہیں۔کسی شخص پر ہنسانے کے لئے اتنی گندی جھوٹی بات بیان کر دی جو اس غریب نے نہ کی ہو ، لوگ اس پر ہنس