سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 182
182 پڑتے ہیں اور دُہرے جرم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ایک تکبر کے اور اپنے بھائی کو حقیر دیکھنے کے، دوسرے جھوٹ بولنے کے یا جھوٹ کی حمایت کرنے کے مرتکب بن جاتے ہیں۔تو ہمارے معاشرے میں یہ چھوٹے چھوٹے سے ایسے رجحانات ہیں جو جھوٹ کے مددگار ہوتے ہیں اور جھوٹ کو پالنے میں ان کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے۔پس تمام سوسائٹی کی عادات پر نظر رکھنا بھی ضروری ہے اور ایسا ماحول پیدا کرنا چاہئے جس سے جھوٹ نہ پینے۔اس کے لئے ضروری ہے کہ ہر شخص نگران ہو۔آپ سب کسی نہ کسی مجلس میں بیٹھتے ہیں خواہ وہ گھر کی ہو یا باہر کی ہو۔وہاں جب اس قسم کی باتیں ہوں جن کے متعلق جیسا کہ میں نے مثالیں دی ہیں، جن کے متعلق خطرہ ہے کہ وہ جھوٹ کی افزائش کریں گی تو آپ لوگوں کو سمجھانا چاہئے کہ جی ! یہ درست طریق نہیں ہے اور ایسا شخص جو جھوٹ کا سہارا لے کر مجلس میں ہر دلعزیز بنے کی کوشش کرتا ہے، زیادہ باتونی بنتا ہے، زیادہ ہنساتا ہے تو بجائے اس کے کہ اس کو ہیرو بنایا جائے اس کو Discourage کرنا چاہئے ، اس کی حوصلہ شکنی کرنی چاہئے۔اگر ایسے شخص کی باتوں پر اہل مجلس ہنا بند کر دیں اور کہیں بڑی لغو بات کی ہے۔بیوقوفوں والی بات ہے، جھوٹ بول کے تم ہمیں کیا خوش کرنا چاہتے ہو تو ایسے شخص کی ہی حوصلہ شکنی نہیں ہوگی بلکہ سوسائٹی سے جھوٹ کی حوصلہ شکنی ہوگی۔بہر حال نگرانی کی ضرورت ہے اور ہر پہلو سے ہر جہت سے نگرانی کی ضرورت ہے۔نظامِ جماعت کوسب سے پہلے تو مستعد ہو جانا چاہئے اور وہ لوگ جو جھوٹ بولتے ہیں اور پھر جماعت سے تصدیقیں چاہتے ہیں تا کہ ان کو دنیا کے فوائد پہنچیں، ان کو یہ کھول کر بتا دینا چاہئے کہ اگر ہمارے علم میں یہ بات آئی کہ تم نے جھوٹ بولا ہے تو ہماری طرف سے تمہیں کسی قسم کا کوئی ٹریفکیٹ نہیں دیا جائے گا، احمدی ہویا نہیں ہو۔یہ الگ بحث ہے لیکن ہم جھوٹوں کے مددگار نہیں ہیں اور یہ اعلان کھول کر سب تک پہنچا دینا چاہئے۔جب تک یہ وضاحت نہیں ہوئی اس وقت تک جو غلطیاں ہوئی ہیں ان سے اگر صرف نظر کر لیا جائے تو اس خیال سے کہ ایک گندی عادت میں لوگ مبتلا ہو گئے ہیں انہوں نے ٹھوکر کھالی۔اُن کے لئے بھی تو بہ کا دروازہ کھلنا چاہئے۔اس پہلو سے اگر نظر انداز کر دیا جائے تو ایسا مضائقہ نہیں ہے لیکن تو بہ کی طرف مائل کرنے کے بعد اس بات کا اقرار لے کر کہ آئندہ آپ کسی دینی، دنیاوی منفعت کی خاطر جھوٹ نہیں بولیں گے اور اگر بولیں گے تو پھر ہم سے کسی فیض کی توقع نہ رکھیں۔اس صرف نظر کا یہ مقصد نہیں کہ انہوں نے جو جھوٹ بولا ہے جماعت اس کی تصدیق کرے۔جماعت نے ہر گز کسی جھوٹ کی تصدیق نہیں کرنی، اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔مطلب یہ ہے کہ جماعتی پہلو سے اس کو سزا نہ دی جائے، اگر پہلے کوئی غلطی ہوگئی ہے اور آئندہ کے لئے کوئی انسان تو بہ کرتا ہے لیکن آئندہ کے لئے سختی سے ایسے لوگوں کا محاسبہ ہونا چاہئے۔دوسرا دوستوں کی مجالس کا بھی نگران ہونا چاہئے اور یہ بات اپنے دوستوں میں عادتا کہنی چاہئے یعنی اسے مستقلاً اپنی روز مرہ کی گفتگو میں عادت کے طور پر داخل کر لینا چاہئے کہ جھوٹ کے خلاف باتیں کریں۔جھوٹ کے بداثرات کے متعلق