سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 180
180 قدم بڑھانا چاہتا ہے اُس کے لئے ضروری ہے کہ اپنے لئے نمونے کی ایک بد عادت چن لے اور اس سے چھٹکارا حاصل کرے۔بہت سے اور بھی ایسے محرکات ہیں جو سوسائٹی میں جھوٹ کی مدد کرتے ہیں۔جہاں تک عمومی معاشرے کا تعلق ہے اُن سے بھی ہمیں پر ہیز کی ضرورت ہے تا کہ ماحول بھی ایسا بنے جو بچوں کے لئے سازگار ہو جائے۔گپیں مارنا بھی جھوٹ کو پیدا کرنے میں محمد بنتا ہے ان بد خصلتوں اور بدعادات میں سے ہمارے ملک میں ایک عادت بیٹھ کر گپیں مارنا ہے اور یہ وہ عادت ہے جو آگے پھر جھوٹ کو پیدا کرنے میں بہت مد بنتی ہے۔دوست بیٹھتے ہیں اور پتہ نہیں کہاں سے اُن کو اتنا وقت مل جاتا ہے کہ مجلسیں لگا کر کہیں مارتے ہیں اور جس کو وہ گپ کہتے ہیں اُس کے متعلق وہ سمجھتے ہیں کہ جھوٹ نہیں ہے اور چونکہ مشغلے کی باتیں ہوتی ہیں بعض ایسی زمینیں ہوتی ہیں جن کو No Man's Land کہا جاسکتا ہے۔وہ دراصل نہ جھوٹ کی زمین ہوتی ہے نہ بیچ کی زمین ہوتی ہے۔جتنے لطائف ہیں یا جتنی نا جاتا ہے۔ا ا ا ا ا ل ل ا ل ولم کہانیاں ہیں، مجالس کی گپ شپ ہے یہ اسی سے تعلق رکھنے والی چیز میں ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا ذکر مشتبہات کے طور پر فرمایا۔آپ نے فرمایا کہ دیکھو! بادشاہوں کی رکھیں ہوا کرتی ہیں جن کی وہ حفاظت کرتا ہے اور اگر اُن رکھوں میں کوئی غیر چلا جائے تو اس کی سزا پاتا ہے۔جو خدا تعالیٰ کی حدود ہیں وہ ان رکھوں کا مقام رکھتی ہیں جن سے تجاوز کرنا خدا تعالیٰ کی ناراضگی مول لینے کا موجب بنتا ہے۔فرمایا: الحَلَالُ بَين وَالْحَرَام بین کہ یہ جو خدا کی رھیں ہیں یہ ہمارے لئے حرام ہیں، جو بڑی بڑی کھلی اور واضح رکھیں ہیں ان کی سرحدیں پتا لگ جاتی ہیں کہ کہاں سے شروع ہوتی ہیں۔اَلحَلَالُ بَین اور اسی طرح وہ باتیں جن کی خدا نے کھلم کھلا اجازت دے رکھی ہے خاص طور پر ہمیں معلوم ہیں اور اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے۔ان دو کے درمیان کئی ایسی زمینیں ہیں جنہیں مشتبہات کہا جاتا ہے۔یعنی جسے آج کل کی فوجی اصطلاح میں No Man's Land کہہ سکتے ہیں یا دو ملکوں کے بارڈرز کے درمیان جو چھوٹا سا علاقہ ، چھوٹی سی سڑک ہوتی ہے جس پر نہ ایک قبضہ کرتا ہے نہ دوسرا قبضہ کرتا ہے۔آپس میں سمجھوتے کے نتیجے میں ، وہ بھی No Man's Land ہے۔فرمایا: بعض چر وا ہے اپنی بھیڑوں کو No Man's Land میں چراتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی خطرہ نہیں لیکن بھیڑوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ ہر طرف منہ مارتی ہیں اس لئے ہرگز بعید نہیں کہ وہ بھیڑیں بادشاہ کی رکھ میں بھی داخل ہو جائیں اس لئے اپنے اعمال کی نگرانی رکھو۔جہاں تم سمجھتے ہو کہ کوئی خطرہ کی بات نہیں واضح طور پر حرام بات نہیں ہے اس لئے کرنے میں حرج نہیں وہاں خطرہ ضرور پیش آتا ہے کیونکہ انسانی فطرت بھیڑوں کی طرح ہر جگہ منہ مارنے کی عادی ہوتی ہے اور جس طرح بھیٹروں کو عقل نہیں ہوتی کہ کہاں منہ مارنا ہے اسی طرح انسان جرموں کے ارتکاب میں بھیڑوں کا سا مرتبہ رکھتا ہے اور