سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 179
179 کرنے کے لئے اپنے نفس کو آمادہ کر لینا ہے۔ایسی صورت میں بسا اوقات اللہ تعالیٰ مغفرت فرماتا ہے اور ایسا شخص ابتلاء میں ڈالا ہی نہیں جاتا اور اگر ڈالا جاتا ہے تو چونکہ خدا کی خاطر اور توحید کی خاطر وہ ایک سزا کو خوشی سے قبول کرتا ہے۔اس کے اندر غیر معمولی پاک تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں اس لئے جب تک کہ ارد گرد جھوٹ کی جھاڑیاں ہیں آپ کو علم ہی کوئی نہیں کہ خدا کی پناہ میں آنے کا مطلب کیا ہوتا ہے اور جب تک آپ خدا کی پناہ گاہیں ڈھونڈیں نہیں ، نہ آپ پناہ میں آسکتے ہیں نہ آپ دُنیا کو پناہ میں لا سکتے ہیں۔یہ گہرا، مسلسل مضمون ہے۔جھوٹوں کو خدا کی پناہ نہیں ملا کرتی اور جھوٹے دنیا کو پناہ نہیں دے سکتے اور خاص طور پر یہ کہ کر کہ ہم انہیں خدا کی پناہ کی طرف بلا رہے ہیں وہ کیسے پناہ دے سکتے ہیں؟ یہ ناممکن ہے۔پس اس بات کو معمولی نہ سمجھیں۔اس پر غور کریں خدا روز مرہ کی زندگی میں نہیں داخل ہوگا جب تک آپ جھوٹ سے چھٹکارا حاصل نہ کریں اور خدا تعالیٰ کی پناہ کے نشان آپ نہیں دیکھ سکتے جب تک آپ جھوٹ کی پناہ گاہوں سے منہ موڑ نہ لیں اور یہ نشان جھوٹ کی جگہ آپ کو پناہ دینے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔یہ کوئی فرضی نشانات نہیں ہیں۔یہ ایسے نشانات ہیں جو روز مرہ مومن کی اور سچے مومن کی زندگی میں اُس کے سامنے ظاہر ہوتے چلے جاتے ہیں اور اُس کی ساری زندگی خدا کے سہاروں پر چلتی ہے۔خدا کے سہاروں پر ہی اُس کا زندگی کا سفر ہوتا ہے اور خدا کی پناہ گاہوں کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔یہ وہ تجربہ ہے جو بچے کو نصیب ہوتا ہے اور اس تجربے کے بغیر مومن کی زندگی کا تصور بھی نہیں پیدا ہو سکتا اس لئے میں آپ کو پھر تا کید سے کہتا ہوں کہ جھوٹ سے استغفار کریں اور جھوٹ سے توبہ کریں ورنہ آپ کا خدا سے سچا تعلق قائم نہیں ہو گا۔باقی سب با تیں فرضی ہیں۔جھوٹ سے تو بہ کریں جھوٹ سے تو بہ کرنا ایک قدم کی تو بہ نہیں ہے، بہت سے قدم اُٹھانے پڑیں گے کیونکہ جب آپ جھوٹ سے تو بہ شروع کریں گے تو ایک جھاڑی کے بعد آپ کو دوسری جھاڑی دکھائی دینے لگے گی۔ایک جڑ اکھیڑیں گے تو ایک اور جڑ دکھائی دینے لگے گی۔پس آپ میں اکثر چونکہ زمین دار لوگ ہیں آپ اس بات کا ذاتی تجربہ رکھتے ہوں گے کہ کھیتوں کی صفائی کے وقت جب انسان پہلی صفائی کرتا ہے تو ظاہر ہونے والی نظر آنے والی جھاڑیوں کے بعد پھر اُن کے پیچھے چھپی ہوئی دوسری جھاڑیاں اور جڑی بوٹیاں بھی دکھائی دینے لگتی ہیں۔ان کی صفائی کرتے ہیں تو پھر کچھ جڑیں سر نکال دیتی ہیں اور انسان سمجھتا ہے کہ ابھی اور کچھ صفائی ہونے والی ہے۔صفائیوں کا سلسلہ تو ایک لمبا سلسلہ ہے۔ایک چھلانگ میں یہ ساری منازل طے نہیں ہو سکتیں لیکن ایک چھلانگ تو لاز مالگانی ہوگی ، اس کے بغیر اگلی چھلانگ کی تو فیق نہیں مل سکتی اس لئے ہر وہ شخص جو اس رستہ پر