سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 156 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 156

156 سے یہاں آ کے جو بسنے والے ہیں بے ضرورت ہیٹر جلاتے ہیں۔بے ضرورت آگ جلتی رہتی ہے اس کے او پر پھیلی ہو یا نہ ہو عورتیں پرواہ نہیں کرتیں، بے ضرورت پانی بہتے رہتے ہیں۔اس سے بہت کم میں انسان اپنی ضرورت کو پوری کر سکتا ہے اور قومی طور پر جو فائدہ ہے وہ تو ہے لیکن بنیادی طور پر ہر انسان کو ان باتوں کی طرف توجہ دینے کے نتیجے میں اپنی اخلاقی تعمیر میں مددملتی ہے اور بچوں کی تربیت میں اس سے بہت فائدہ پہنچ سکتا ہے۔بجلیوں کو دیکھ لیجئے۔میں نے دیکھا ہے کہ گھروں میں بے وجہ بجلیاں جلتی چھوڑ جاتے ہیں لوگ۔ریڈیو آن کیا ہے یا ٹیلی ویژن آن کیا ہے تو کمرے سے چلے گئے اور خالی کمروں میں بجلیاں بھی جل رہی ہیں، ریڈیو آن ہیں یا ٹیلی ویژن آن ہیں۔کئی دفعہ میں اپنے گھر میں اپنے بچوں سے کہا کرتا ہوں کہ ہمارے گھر جن ہیں کیونکہ میں کمرے میں گیا وہاں بجلی جل رہی تھی اور ٹیلی ویژن چلا ہوا تھا۔معلوم ہوتا ہے کوئی ایسی غیر مرئی مخلوق ہے جو آ کے یہ کام کر جاتی ہے۔انسانوں کو تو زیب نہیں دیتا کہ اس طرح بے وجہ خدا کی نعمتوں کو ضائع کریں۔تو بارہا یہ دیکھا ہے تربیت کرنی پڑتی ہے لیکن صبر کے ساتھ بدتمیزی کے ساتھ نہیں اور یہ جو دو باتیں ہیں یہ اکٹھی چلیں گی یعنی حو صلے کی تعلیم اور نقصان سے بچنے کا رجحان۔کسی قسم کا قومی نقصان نہ ہواس کے نتیجے میں اندرونی طور پر بھی آپ کی ذات کو ، آپ کے خاندان کو فوائد پہنچیں گے اور بڑے ہو کر تو اس کے بہت ہی عظیم الشان نتائج نکلتے ہیں۔وہ لوگ جن کو چھوٹے چھوٹے نقصانوں کی پرواہ نہیں ہوتی جب وہ تجارتیں کرتے ہیں تو اپنی طرف سے وہ حوصلہ دکھا رہے ہوتے ہیں کہ اچھا یہ ہو گیا کوئی فرق نہیں پڑتا ، اچھا وہ نقصان ہوگیا کوئی فرق نہیں پڑتا ہم اور آگے کمالیں گے۔یہ جہالت کی باتیں ہیں اچھے تاجر وہی ہوتے ہیں جو چھوٹے سے چھوٹا نقصان بھی برداشت نہ کریں اور حوصلہ کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اپنے نقصان کو آنکھوں کے سامنے ہوتا دیکھیں اور روکنے کی کوشش نہ کریں۔غریب کی ہمدردی اور دکھ درد میں شامل ہونے کی عادت چوتھی بات غریب کی ہمدردری اور دکھ دور کرنے کی عادت ہے۔یہ بھی بچپن ہی سے پیدا کرنی چاہئے۔جن بچوں کو نرم مزاج مائیں غریب کی ہمدردی کی باتیں سناتی ہیں اور غریب کی ہمدردی کا رجحان ان کی طبیعتوں میں پیدا کرتی ہیں وہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ مستقبل میں ایک عظیم الشان قوم پیدا کر رہی ہوتی ہیں۔جو خَيْرَ اُمَّةِ بننے کی اہل ہو جاتی ہیں لیکن وہ مائیں جو خود غرضانہ رویہ رکھتی ہیں اور اپنے بچوں کو ان کے اپنے دکھوں کا احساس تو دلاتی رہتی ہیں غیر کے دکھ کا احساس نہیں دلاتی وہ ایک خود غرض قوم پیدا کرتی ہیں جو لوگوں کے لئے مصیبت بن جاتی ہیں۔اس لئے انسانی ہمدردی پیدا کرنا نہ صرف نہایت ضروری ہے بلکہ اس کے بغیر آپ اپنے اس اعلیٰ مقصد کو پانہیں سکتے جس کے لئے آپ کو پیدا کیا گیا ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے