سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 157 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 157

157 كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ( آل عمران :111) تم دنیا کی بہترین امت ہو جس کو خدا تعالیٰ نے بنی نوع انسان کے فوائد کے لئے پیدا فرمایا ہے اس لئے ہم اپنی زندگی کا قومی مقصد کھو دیں گے اگر ہم بچپن ہی سے اپنی اولاد کو لوگوں کی ہمدردی کی طرف متوجہ نہ کریں اور عملاً ان سے ایسے کام نہ لیں یا ان کو ایسے کام نہ سکھائیں جس کے نتیجے میں غریب کی ہمدردی ان کے دل میں پیدا ہو اور اس کی لذت یابی بچپن ہی سے شروع ہو جائے۔لذت یابی سے مراد میری یہ ہے کہ اگر کسی بچے سے کوئی ایسا کام کروایا جائے جس سے کسی کا دکھ دور ہو تو اس کو ایک لذت محسوس ہوگی۔اگر محض زبانی بتایا جائے تو وہ لذت محسوس نہیں ہوگی اور جب تک نیکی کی لذت محسوس نہ ہو اس وقت تک نیکی دوام نہیں پکڑا کرتی اس وقت تک یہ محض نصیحت کی باتیں ہیں۔سبق آموز واقعات سنا کر دوستوں کو غریبوں کی ہمدردی کی طرف مائل کریں اس لئے اس کے دو پہلو ہیں ایک تو آپ اپنے بچوں کو اچھی کہانیاں سنا کر سبق آموز نصیحت کر کے یا سبق آموز واقعات سنا کر غریبوں کی ہمدردی کی طرف مائل کریں دکھ والوں کے دکھ دور کرنے کی طرف مائل کریں۔ہر وہ شخص جو مصیبت زدہ ہے کسی تکلیف میں مبتلا ہے یہ احساس پیدا کریں کہ اس کی مصیبت دور ہونی چاہئے اس کی تکلیف دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔خدمت کا جذبہ ان کے اندر پیدا کریں بلکہ اس کے ساتھ مواقع بھی مہیا کریں۔یہاں عام طور پر ایسے مواقع میسر نہیں آتے یعنی روز مرہ کی زندگی میں کیونکہ یہ ایک ایسا ملک ہے جہاں امیروں اور غریبوں کے درمیان فاصلے بہت ہیں۔یا درمیانے طبقے کے لوگوں کے درمیان اور غریبوں کے درمیان بہت فاصلے ہیں لیکن ہمارے ملکوں میں یعنی غریب ملکوں میں تیسری دنیا کے ملکوں میں تو غریب اور امیر ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ہر روز ان کی گلیوں، ان کے بازاروں میں غربت تکلیف اٹھاتی ہوئی دکھائی دیتی ہے اور محسوس ہوتی ہے۔وہاں تو نہ صرف یہ کہ یہ کام بہت آسان ہے کہ عملاً بچوں کو بچپن ہی سے لوگوں کی تکلیفیں دور کرنے کی عادت ڈالی جائے بلکہ مشکل بھی ہے کہ تکلیفیں اتنی ہیں کہ انسان کے حد استطاعت سے بہت بڑی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ایسے ہی ملکوں کے متعلق غالباً ایسے ہی ماحول میں غالب نے یہ کہا تھا کہ : کون ہے جو نہیں ہے حاجت مند کس کی حاجت روا کرے کوئی (دیوان غالب صفحه : 330) لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ چونکہ حاجتیں پوری کرنا ہمارے بس سے بڑھ گیا ہے اس لئے ہم