سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 155 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 155

155 چھوٹی چیز کا بھی نقصان نہ ہو۔وضو کرتے وقت پانی کا بھی نقصان نہیں ہونا چاہئے۔منہ ہاتھ دھوتے وقت پانی کا نقصان نہیں ہونا چاہئے۔برتن دھوتے وقت پانی کا نقصان نہیں ہونا چاہئے۔کپڑے دھوتے وقت پانی کا نقصان نہیں ہونا چاہئے۔صرف ایک پانی ہی کو لے لیں تو آپ دیکھیں گے کہ ہماری قوم میں اور بعض ترقی یافتہ قوموں میں بھی نقصان کا کتنا رجحان ہے۔میں نے دیکھا ہے بعض لوگ ٹوٹیاں کھول کر کھڑے ہو جاتے ہیں ان کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ گرم پانی یا ٹھنڈا پانی جیسا بھی ہے وہ اکثر ضائع ہورہا ہے اور بہت تھوڑا ان کے کام آ رہا ہے۔حالانکہ پانی خدا تعالیٰ کی ایک ایسی نعمت ہے جس کی قدر کرنا ضروری ہے اور قطع نظر اس سے کہ اس سے آپ کا مالی نقصان کیا ہوتا ہے یا قوم کا مجموعی نقصان کیا ہوتا ہے یہ بات ناشکری میں داخل ہے کہ کسی نعمت کی بے قدری کی جائے۔تو حو صلے سے مراد ہر گز یہ نہیں کہ نقصان کی پرواہ نہ کرنے کی عادت ڈالی جائے۔یہ دو باتیں پہلو بہ پہلو چلنی چاہئیں۔حوصلہ سے مراد یہ ہے کہ اگر اتفاقا کسی سے کوئی نقصان پہنچتا ہے تو اس پر برداشت کیا جائے اور اس سے کہا جائے کہ اس قسم کی باتیں ہوتی رہتی ہیں اور جن کے حوصلے بلند ہوں وہ پھر بڑے ہو کر بڑے نقصان برداشت کرنے کے بھی زیادہ اہل ہو جاتے ہیں۔بعض دفعہ آفات سماوی پڑتی ہیں اور دیکھتے دیکھتے انسان کی فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں۔جن کو چھوٹی چھوٹی باتوں کا حوصلہ نہ ہو وہ ایسے موقعوں کے اوپر پھر خدا سے بھی بد تمیز ہو جاتے ہیں اور بے حوصلگی کے ساتھ ایک خود غرضی کا رشتہ ایسا گہرا ہے کہ اس خود غرضی کے نتیجے میں ہر دوسری چیز اپنی تابع دکھائی دینے لگتی ہے۔اگر وہ فائدہ پہنچارہی ہے تو ٹھیک ہے ذرا سا بھی نقصان کسی سے پہنچے تو انسان حوصلہ چھوڑ بیٹھتا ہے اور جب بندوں سے بے حوصلگی شروع ہو تو بالآخر خدا سے بھی انسان بے حوصلہ ہو جاتا ہے۔اسی لئے حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ گر سمجھایا کہ : مَنْ لَمْ يَشْكُرُ النَّاسَ لَا يَشْكُرُ الله ( کنز العمال حدیث نمبر : 6440) کہ جو بندے کا شکر ادا نہ کرنا سیکھے وہ خدا کا کہاں کرسکتا ہے۔جو بندے کا نہیں کرتا وہ خدا کا بھی شکر نہیں کرتا۔یہ جو گہر ا فلسفہ ہے یہ ہم روز مرہ کی زندگی میں دیکھتے ہیں۔حوصلہ پر بھی اسی بات کا اطلاق ہوتا ہے اسی لئے میں نے کہا تھا کہ یہ معمولی بات نہیں بڑے ہو کر اس کے بہت برے نتائج پیدا ہو سکتے ہیں۔وہ نقصان جس میں انسان بے اختیار ہو اس پر صبر کا نام حوصلہ ہے۔نقصان کی طرف طبیعت کا میلان ہونا یہ حوصلہ نہیں ہے یہ بے وقوفی ہے، جہالت ہے اور بعض صورتوں میں یہ خود ناشکری بن جاتا ہے۔اس لئے بچوں کو جب حوصلہ سکھاتے ہیں تو چیزوں کی قدر کرنا بھی سکھائیں۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اب یہاں بھی انگلستان میں میں نے دیکھا ہے پانی کا نقصان اور گرمی کا نقصان یہ دو ایسی چیزیں ہیں جو عام قوم میں پائی جاتی ہیں کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ہمارے خود پاکستان