سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 150 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 150

150 پس بہت ہی اہم بات ہے۔ہم نے آخرین ہو کر قرآن کریم کی اس پیش گوئی کا مصداق بنتے ہوئے قطعی طور پر یہ دیکھ لیا اور دنیا پر ثابت کر دیا کہ زمانے کی دوری کو اخلاق کی قربت کے ذریعے مٹایا جاسکتا ہے اور نیک اعمال کے نتیجے میں زمانے کے فاصلے ماضی میں بھی طے ہو سکتے ہیں اور مستقبل میں بھی طے ہو سکتے ہیں۔پس اس پہلو سے ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم ہر صدی کے قدم پر یہ دیکھیں کہ ہمارا قدم پچھلی صدی کے ساتھ ملا ہوا ہے یا نہیں اور ہمارا اخلاقی اور عملی فاصلہ کہیں بڑھ تو نہیں رہا۔پس آگے بڑھنا دوطرح سے ہوگا۔ایک زمانے میں آگے بڑھناوہ تو ایسی مجبوری ہے جس پر کسی کا کوئی اختیار نہیں اور ایک آگے بڑھنا یہ بھی ہو سکتا ہے جیسے قو میں بظاہر آگے بڑھتی ہیں لیکن بنیادی طور پر انحطاط کا شکار ہو جاتی ہیں۔اخلاقی قدروں کے لحاظ سے انحطاط کا شکار ہو جاتی ہیں۔وہ آگے بڑھنا تو تنزل کی علامت ہے اس پہلو سے ہم نے آگے نہیں بڑھنا بلکہ واپس جانا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی جوسب سے بڑا معجزہ دکھایا ، جوسب سے عظیم الشان کارنامہ کر کے دکھا یا وہ واپسی کا کارنامہ ہے آگے بڑھنے کا کارنامہ نہیں۔تیرہ سوسال کے فاصلے حائل تھے۔کس طرح ایک ہی جست میں آپ اس زمانے میں جا پہنچے جو حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تھا۔پس ہر صدی کی زمانی جست کے ساتھ ہمیں ایک واپسی کی جست بھی لگانی ہوگی اور بڑے معین فیصلے اور بڑے قطعی فیصلے کے ساتھ ایسا پروگرام طے کرنا ہوگا کہ جب ہم وقت میں آگے بڑھیں تو اخلاقی اور اعمالی قدروں میں واپس جارہے ہوں۔اس پہلو سے اس دور میں جب میں چاروں طرف دیکھتا ہوں تو جماعت کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ اور بھی مسائل بڑھتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس کی رفتار ہر طرف پہلے سے بہت زیادہ ہو چکی ہے۔پس بڑی جماعتوں میں رفتار کا پھیلاؤ جہاں مبارک بھی ہے وہاں خدشات بھی پیدا کرنے والا ہے اور فکریں بھی پیدا کرنے والا ہے۔اسی طرح بڑی جماعتوں میں نسل پھیلتی ہے تولید کے ذریعے جماعتیں بڑھتی ہیں اس پہلو سے بھی ساتھ ہی تربیتی فکر میں بڑھنے لگتی ہیں۔تمام ذیلی تنظیموں کو اپنے تابع کرنے کے فیصلہ کی اصل غرض پس جب میں نے مجلس خدام الاحمدیہ، انصار اللہ اور لجنہ کو تمام ملکوں میں براہ راست اپنے تابع کرنے کا فیصلہ کیا تو اس میں یہ ایک بڑی حکمت پیش نظر تھی تا کہ میں ان مجالس سے براہ راست ایسے کام لوں جن کے نتیجے میں خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ ہماری تربیتی ضرورتیں پوری ہو سکیں اور خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ اور لجنہ اماءاللہ محض خوابوں کے محل تعمیر نہ کریں بلکہ چھوٹے چھوٹے ایسے اقدام کریں جن کے نتیجے میں غریبانہ سر چھپانے کی گنجائش تو پوری ہو۔یہ وہ ضرورت ہے جس کے پیش نظر جیسا کہ میں نے بیان کیا مجھے