سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 149 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 149

149 لوں اس وقت تک یہ اعلان نہیں کرنا۔تو آپ سے یعنی ساری جماعت سے میری درخواست ہے کہ دعا کے ذریعے میری مدد کریں کہ اللہ تعالیٰ اس فیصلے کو درست اور بابرکت ثابت فرمائے اور کثرت کے ساتھ جماعت اس کی خیر کا پھل کھائے اور نظام جماعت تیزی کے ساتھ اپنی تکمیل کے وہ مراحل طے کرے جس کے بعد نظام کے ہر حصے کو غیر شعوری دماغ کی طرف منتقل کیا جا سکتا ہے اور نظام جماعت کا عرش بلند تر ہوتا چلا جائے گا۔یہی وہ نظام ہے جس کے ذریعے ہم مزید رفعتیں حاصل کر سکتے ہیں۔" (خطبات طاہر جلد 8 صفحہ 709 تا 720) ذیلی تنظیموں کو پانچ بنیادی اخلاق اپنانے کی خصوصی تلقین (خطبہ جمعہ 24 نومبر 1989ء) " وہ لوگ جو بڑے بڑے منصوبے بناتے ہیں ان کو یہ رجحان پیدا کرنا چاہئے کہ ابتدائی باتوں کی طرف خصوصی توجہ دیں۔بعض دفعہ بعض بہت ہی بلند بانگ منصوبے بنانے والے اور بلند بانگ دعاوی کرنے والے ابتدائی باتوں سے بے خبر رہ جاتے ہیں اور وہ چیزیں جو ان کی نظر میں ابتدائی ہیں در حقیقت بنیادی حیثیت رکھنے والی باتیں ہوا کرتی ہیں اور جب تک بنیادیں قائم نہ ہوں کوئی بلند عمارت تعمیر نہیں کی جاسکتی۔یہ ایک ایسا قانون ہے جسے کوئی دنیا کا انجینئر کوئی ماہر فن نظر انداز نہیں کرسکتا۔قوموں کی تعمیر میں اور میری مراد مذہبی تو میں ہیں مذہبی قوموں کی تعمیر میں دو باتیں بہت ہی بڑی اہمیت رکھتی ہیں اور انہی کے گرد سارا فلسفہ حیات گھومتا ہے یعنی بندے سے تعلق اور خدا سے تعلق۔ان دونوں تعلقات میں اسلام نے بہت ہی وسیع تعلیمات دی ہیں اور بہت ہی بلند منصوبے پیش کئے ہیں لیکن ان منصوبوں پر عمل تبھی ممکن ہے جب ان کے ابتدائی حصوں پر خصوصیت سے توجہ دی جائے اور صبر کے ساتھ پہلے بنیادیں تعمیر کی جائیں پھر خدا تعالیٰ کے فضل سے توقع رکھی جائے کہ ان بنیادوں پر عظیم الشان عمارتیں تعمیر ہوں گی۔جماعت احمدیہ کا جو موجودہ دور ہے یہ غیر معمولی اہمیت رکھنے والا دور ہے اور جیسا کہ میں نے بارہا پہلے توجہ دلائی ہے ہم حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی پہلی صدی سے دور ہورہے ہیں۔یعنی زمانے اور وقت کے لحاظ سے دور ہو رہے ہیں لیکن عین ممکن ہے بلکہ قرآن کریم نے اس کی معین پیشگوئی بھی فرمائی ہے کہ زمانے کی دوری پائی جاسکتی ہے، عبور ہو سکتی ہے اگر ا خلاق کو دور نہ ہونے دیا جائے ،اگر اعمال کو دور نہ ہونے دیا جائے۔وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ (الجمعہ: 4) میں یہی تو پیغام ہے اور یہی تو خوشخبری ہے جس کو پورا ہوتے دیکھ کر ہمارے ایمان پھر زندہ ہوئے ہیں۔