سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 151 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 151

151 151 یہ اقدام کرنا پڑا۔اس سلسلے میں میں آج میں دو ابتدائی پروگرام جماعت کے سامنے رکھتا ہوں اور یہ تینوں مجالس خصوصیت کے ساتھ میری مخاطب ہیں ان کو تنظیمی ہدایات انشاء اللہ تعالیٰ پہنچتی رہیں گی اور چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں، چھوٹے چھوٹے آسان حصوں میں ان کے سپر د عملی پروگرام کئے جائیں گے لیکن جو بنیادی باتیں میرے پیش نظر ہیں وہ میں آپ سب کے سامنے پہلے بھی مختلف حیثیتوں میں رکھتا رہا ہوں آج پھر ان باتوں میں سے بعض کو دہرانا ضروری سمجھتا ہوں۔مذہبی قو میں بغیر اخلاقی تعمیر کے تعمیر نہیں ہو سکتیں اور یہ تصویر بالکل باطل ہے کہ انسان بداخلاق ہو اور باخدا ہو اس لئے سب سے اہم بات مذہبی قوموں کی تعمیر میں ان کے اخلاق کی تعمیر ہے اور یہ تعمیر جتنی جلدی شروع ہوا تنا ہی بہتر اور اتنی ہی آسان ہوتی ہے۔پس اس پہلو سے لجنہ اماء اللہ نے سب سے ابتدائی اور بنیادی کام کرنے ہیں اور یہی ابتدائی اور بنیادی کام عمر کے دوسرے حصوں میں خدام کے سپر د بھی ہوں گے اور انصار کے بھی سپر د ہوں گے لیکن بنیادی طور پر ایک ہی چیزیں ہیں جو مختلف عمر کے حصوں میں مختلف مجالس کو خصوصیت سے سرانجام دینی ہیں۔سچ کی عادت سب سے پہلی بات سچ کی عادت ہے۔آج دنیا میں جتنی بدی پھیلی ہوئی ہے اس میں سب سے بڑا خرابی کا عنصر جھوٹ ہے۔وہ قو میں جو ترقی یافتہ ہیں جو بظاہر اعلیٰ اخلاق والی کہلاتی ہیں وہ بھی اپنی ضرورت کے مطابق جھوٹ بولتی ہیں، اپنوں سے نہیں بولتی تو غیروں سے جھوٹ بولتی ہیں۔ان کے فلسفے جھوٹ پر مبنی ہیں۔ان کا نظام حیات جھوٹ پر مبنی ہے۔ان کی اقتصادیات جھوٹ پر مبنی ہے۔غرضیکہ اگر آپ باریک نظر سے دیکھیں تو اگر چہ بظاہر ان کے زندگی کے کاروبار پر Civilization اور اعلیٰ تہذیب کے ملمعے چڑھے ہوئے ہیں لیکن فی الحقیقت ان کے اندر مرکزی نقطہ جس کے گرد یہ قو میں گھوم رہی ہیں اور ان کی تہذیبیں جن کے اوپر مبنی ہیں وہ جھوٹ ہی ہے لیکن یہ ایک الگ بحث ہے مجھے تو اس وقت جماعت احمدیہ کے اندر دلچسپی ہے اور جماعت احمدیہ کے بچوں کے اوپر خصوصیت کے ساتھ میں نظر رکھتا ہوں اور میرے نزدیک جب تک بچپن سے سچ کی عادت نہ ڈالی جائے بڑے ہو کر سچ کی عادت ڈالنا بہت مشکل کام ہو جاتا ہے اور جیسا کہ میں نے اپنے بعض خطبات میں تفصیل سے بیان کیا ہے سچ بولنا بھی مختلف درجات سے تعلق رکھتا ہے، مختلف مراحل سے تعلق رکھتا ہے اور کم سچا اور زیادہ سچا اور اس سے زیادہ سچا اور اس سے زیادہ سچا اتنے بے شمار مراحل ہیں سچ کے بھی کہ ان کو طے کرنا بالآخر نبوت تک پہنچاتا ہے اور صدیق کے مرحلے سے آگے سچائی کا جو خدا تعالیٰ نے مقام مقرر فرمایا ہے اسی کو نبوت کہا جاتا ہے۔ایسا سچا