سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 148
148 ہیں۔اس کام کو ہلکا اور آسان کرنے کی خاطر میں نے یہ سوچا ہے کہ دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کے شعبہ کے ساتھ ایک شعبہ ذیلی مجالس قائم کیا جائے اور سر دست وہاں مستقل نائب پرائیویٹ سیکرٹری مقرر کرنے کی بجائے انگلستان کی جماعت سے کچھ مستعد احباب جماعت کو چن کر ان کو اس معاملے میں اپنی مدد کے لئے مقرر کروں۔وہ ان سب رپورٹوں کا مطالعہ کریں جو اس شعبہ کو موصول ہوتی ہیں اور ان کے متعلق مجھ سے وقت لے کر زبانی مجھ سے گفتگو کیا کریں اور ان خاص باتوں کو Highlight کریں یعنی نمایاں کریں جہاں میری خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔پھر میں ان رپورٹوں کی تفصیلات کو بھی پڑھ سکتا ہوں لیکن سر دست اس طرح کام آگے بڑھایا جائے گا اور میں نے یہ سوچا ہے کہ بہت سے ایسے کام ہمیں دنیا میں اب کرنے ہیں جن میں ان تنظیموں کو سب دنیا میں زندہ اور فعال بنانے کی ضروت ہے اور ان کا رابطہ اپنی امارتوں کے ساتھ بہترین بنانے کی ضرورت ہے تا کہ کسی قسم کے رخنہ کا کوئی سوال نہ رہے۔بیرون پاکستان ذیلی تنظیموں کے سربراہ آئندہ سے صدر مجلس کہلوائیں گے پس یہ تنظیمیں اپنی امارتوں سے کیا تعلق رکھتی ہیں اور محبت اور ادب اور وفا کا تعلق ہے یا کوئی اور تعلق ہے اس پر بھی میری نظر بھی رہ سکتی ہے اگر ان کی رپورٹیں مجھے مل رہی ہوں اور میں پہچان رہا ہوں کہ ان میں کیا کیا با تیں پیدا ہورہی ہیں، کیار جحانات ہیں۔پس آئندہ سے انشاء اللہ تعالیٰ اس طریق پر کام ہوگا تبھی میں نے اس دفعہ ربوہ میں ہونے والے مرکزی اجتماعات کے موقع پر جو انتخاب ہوئے ان میں یہ واضح ہدایت بھیجی تھی کہ آپ اپنے اپنے ملک کے صدر کا انتخاب کریں اور وہاں عمد امرکزی لفظ استعمال نہیں کیا تھا۔میں نہیں جانتا کہ ان کو میرا یہ پیغام سمجھ آیا یا نہیں لیکن ہدایت کے مطابق جو جو صدر بھی منتخب ہوئے ہیں وہ پاکستان کے صدران ہیں اور باقی دنیا کے تمام ذیلی تنظیموں کے آخری عہدیداران آج کے بعد صدر مجلس کہلائیں گے۔یعنی انگلستان میں صدر مجلس خدام الاحمدیہ انگلستان، صدر مجلس انصاراللہ انگلستان،صدر مجلس لجنہ اماءاللہ انگلستان ہو گا اور اسی طرح باقی دنیا کے ملکوں کا حال ہو گا۔اس سلسلے میں میں دعا کی بھی تحریک کرنا چاہتا ہوں کیونکہ یہ جو قدم اٹھایا ہے یہ صرف لمبے مشوروں کے بعد نہیں بلکہ بہت لمبی دعا کے بعد اور بہت غور کے بعد اور تامل کے بعد اٹھایا ہے اور اس آخری شکل میں جب تک مجھے پوری طرح شرح صدر نصیب نہیں ہوا میں نے اس فیصلے کا اعلان نہیں کیا حالانکہ جلسے پر مشورہ دینے والے کہتے تھے کہ بالکل ٹھیک ہے: در کار خیر حاجت استخاره نیست فوراً اعلان کردیں لیکن میرے دل پہ ابھی ایک بوجھ تھا کہ جب تک خدا تعالیٰ کی طرف سے پوری فراست نصیب نہ ہو جائے اور پوری طرح شرح صدر نہ ملے اور دعاؤں کے ذریعے اس میں خیر نہ طلب کر