سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 147 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 147

147 یہ نظام جاری ہے۔یہ سوچتے ہوئے میرا ذ ہن اس طرف منتقل ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کی یہ ایک عظیم الشان دلیل ہے۔اگر انسانی زندگی کے تجربہ میں بھی یہ ناممکن ہے کہ لمبے عرصے کی شعوری کوشش کے بغیر کوئی نظام جاری رہ سکے۔تو ساری کائنات کا جو نظام چل رہا ہے یہ غیر شعوری کوشش کے بغیر کیسے ہو گیا۔اس لئے جو خود بخود چل رہا ہے جس طرح ہمارے جسم میں خود بخود چلنے والا نظام بھی ارب ہا ارب سال پہلے شعوری طور پر چلایا جا رہا تھا اور نہ از خود چلنے کی صلا حیت اس میں پیدا ہی نہیں ہو سکتی تھی۔اس طرح ساری کائنات کا نظام بھی جواز خود چلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے بہت ہی لمبے عرصے تک شعوری طور پر چلایا گیا ہے اور اس شعور نے پھر آگے مختلف در جے اختیار کر لئے ہیں اور سلسلہ وار اس کا آخری درجہ خدا سے ملتا ہے اور یہ سلسلہ وار شعوری نظام یا اگر انسانی اصطلاح میں بات کریں تو بعض پہلو سے غیر شعوری بھی کہہ سکتے ہیں اس کو۔یہ جو جاری ہوا ان سلسلوں کا نام فرشتے ہیں اور بے شمار فرشتے ہیں جو سلسلہ وار اس کام کو چلاتے چلے جارہے ہیں اور پھر خدا تک ان کا تعلق ہے اور وہ آخری فرشتہ جو اس میدان میں سب سے بلند مرتبہ رکھتا ہے اور خدا سے تعلق رکھتا ہے اس فرشتہ کا نام ہمیں قرآن کریم میں ملتا ہے یا بعض جگہ ذکر ملتا ہے اور تفصیل سے نام نہیں ملتا لیکن یہ ضرور پتا چلتا ہے قرآن کے مطالعہ سے اور حدیث کے مطالعہ سے بھی کہ ایسے فرشتے ہیں جو نظام کی ہر تفصیل کی آخری رپورٹ خدا کے حضور پیش کر رہے ہوتے ہیں۔پس نظام کا بڑا ہونافی ذاتہ کوئی چیز نہیں ہے، کوئی بوجھ نہیں ہے۔اس نظام کا صحیح ہونا ضروری ہے۔اگر نظام صحیح ہو جائے اور چل پڑے تو ساری کائنات کا خدا بھی عرش پر مسلط ہوسکتا ہے اور جانتا ہے اور یقین رکھتا ہے اس کو علم ہے کہ اس کی تفصیلی توجہ کی اس طرح اب ضرورت نہیں ہے وہ نظام اس کی توجہ کی برکت سے آگے چل پڑا ہے اور چلتا رہے گا اور ذیلی توجہ کرنے والے بہت سے پیدا ہو چکے ہیں۔اس لئے خدام الاحمدیہ کا نظام ہو ی لجنہ کا یا انصار اللہ کا ان میں ابھی وہ پختگی نہیں آئی وہ روانی نہیں آئی کہ خلیفہ وقت کی ذاتی براہ راست توجہ کے بغیر یہ پوری طرح جاری و ساری ہو سکیں اور اپنی ذات میں Sub Conscious دماغ کے سپرد کئے جاسکیں۔خصوصاً وہ علاقے جہاں پہلے ہی رابطے کمزور ہیں ان میں ان کو اپنی کامل روح کے ساتھ جاری کرنے کی ضرورت ہے وہاں لازماً خلیفہ کو اپنی شعوری توجہ کو ان کی طرف منتقل کرنا پڑے گا اور شعوری توجہ کا رابطہ ان سے لمبے عرصے تک رکھنا پڑے گا۔تمام ممالک کی مجالس آئندہ سے خلیفہ وقت کو براہ راست رپورٹس بھجوائیں گی پس آج کے اس خطبے کے ذریعے میں یہ اعلان کرتا ہوں کے آئندہ سے تمام ممالک کی ذیلی مجالس کے اسی طرح صدران ہوں گے جس طرح پاکستان کی ذیلی مجالس کے صدران ہیں اور وہ اسی طرح براہ راست خلیفہ وقت کو اپنی آخری رپورٹیں بھجوائیں گے جس طرح پاکستان کے صدران اپنی رپورٹیں بھجواتے