سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 146
146 ترقی ہوتی ہے اور یہ ترقی اسی وقت ہوتی ہے جب نظام کا ایک حصہ کامل ہو جائے اور اپنے درجہ کمال کو پہنچ کر مستقل حرکت شروع کر دے اس کے بعد تفصیل سے اس کی نگرانی کی ضرورت نہ رہے۔اس نقطہ کا تفصیلی ذکر اس لئے ضروری ہے کہ جماعت احمدیہ میں بھی کام بڑھنے کے ساتھ یہی واقعہ ضرور ہونا ہے اور بعض پہلوؤں سے ہو رہا ہے۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ خلیفہ وقت کا شعور بغیر زیادہ بوجھ اٹھائے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرے تو جن باتوں میں وہ شعوری توجہ کا محتاج ہے ان میں اس کی توجہ پر بوجھ کم کرنے کے لئے اس نظام کو کامل کر دیں اور خودرو بنا دیں۔جتنا نظام درجہ کمال کو پہنچتا چلا جائے گا اور خودرو ہوتا چلا جائے گا خلیفہ کی براہ راست توجہ کا محتاج نہیں رہے گا اور اس کی توجہ جو سابق میں تھی یا کئی خلفاء کی توجہ جو سابق میں رہی ان کا مجموعی فائدہ جماعت کو یہ پہنچے گا کہ اپنی ذات میں وہ نظام چل پڑے گا اور الا ما شاء اللہ شعوری دخل کی ضرورت نہیں رہے گی اور پھر وہ شعوری دماغ اور حصوں کی طرف توجہ کرنے کے لئے آزاد ہوتا چلا جائے گا۔اس مسئلے پر غور کرتے ہوئے گزشتہ خطبہ والا مضمون میرے ذہن میں پھر حاضر ہو گیا جب میں نے بیان کیا کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں جو یہ بتایا ہے کہ ہم نے چھ دنوں میں زمین و آسمان کو پیدا کیا اسے مسخر کیا، اس کو کامل کیا اور جب وہ درجہ کمال کو پہنچ گیا اور جاری و ساری ہو گیا پھر ہم عرش پر بیٹھ گئے۔تو یہ بھی ویسی ہی ایک مثال ہے۔انسانی دائرے میں عرش دماغ کے اس آخری حصے کو کہہ سکتے ہیں آخری نقطہ عروج کہہ سکتے ہیں جس پر روح مسلط ہے اور اس کا عرش بھی اسی طرح بنا ہے۔ارب ہا ارب سال کی مسلسل ترقی کے ساتھ رفتہ رفتہ زندگی نے قدم آگے بڑھائے اور ایک نظام کا دائرہ مکمل ہوا تب اس کا اونچا Next قدم قائم ہوا ایک نیا درجہ ظاہر ہوا جو رفعت میں پہلے سے بلند تر تھا اور اس طرح شعوری دماغ اپنے پیچھے ایک نظام کا ایک جلوس چھوڑتا چلا گیا۔یہاں تک کہ انسان کے درجے تک پہنچتے پہنچتے یہ اتنا وسیع نظام ہو چکا ہے کہ اگر آپ کو اس نظام کے ایک معمولی سے حصے کے متعلق بھی میں پوری معلومات حاصل کرنے کے بعد بتا نا شروع کروں تو بیبیوں خطبے گزرجائیں گے لیکن وہ ذکر مکمل نہیں ہو گا۔حیرت انگیز نظام ہے اور آخر پر ایک ہی دماغ ہے۔ایک ہی شعور ہے جو یوں معلوم ہوتا ہے کہ سب کا آخری نگران ، اور ہے بھی آخری نگران ، لیکن از خود کام ہوتے چلے جارہے ہیں۔سارا ہمارا جو نظام ہے پیدائش کا نظام، سانس لینے کا نظام انہظام کا نظام، بے شمار نظام میں گردوں کا کام کرنا اور کئی قسم کے تیز ابوں اور زہروں کو جسم سے نکالنے کا نظام دفاع کے مختلف نظام۔ان میں سے ہر نظام کا ہر حصہ اتنا پیچیدہ اور اتنا توجہ کا محتاج ہے کہ ناممکن ہے کہ بغیر توجہ کے یہ خود بخود کام کرے لیکن مجھے یہ بات سمجھ آئی کہ یہ توجہ رفتہ رفتہ ایک ایسے نظم و ضبط کی شکل اختیار کر گئی جس کو ہم غیر شعوری دماغ کہتے ہیں اور اس لمبے عرصے کی کمائی کا نتیجہ ہے کہ