سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 102
102 ہے یہ حسین رد عمل نہیں ہے یہ ایک ظالم رد عمل ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس لئے سب سے پہلے تو جو تربیت کے ذمہ دار ہیں ان کی تربیت ضروری ہے ان کو خود اپنی تربیت کرنی چاہئے ، اپنے نفس کا محاسبہ کرنا چاہئے اپنے دل کو ٹول کر دیکھنا چاہئے کہ اس قسم کے جب وہ نظارے دیکھتے ہیں تو ان کے دل میں ان بیچارے نو جوانوں کے لئے ہمدردی پیدا ہوتی ہے یا نفرت پیدا ہوتی ہے۔اگر نفرت پیدا ہوتی ہے تو وہ لوگ خود بیمار ہیں ان بیچاروں کی کیا اصلاح کریں گے۔انصار اللہ کوگھروں میں ویڈیوز وغیرہ کی نگرانی کرنی چاہئے پھر جب آپ دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ ویڈیوز لے کر جاتے ہیں ہندوستان کے گانوں کی فلمیں یا یورپ کی بعض فلمیں اور اکٹھے ہو کر کہیں دیکھتے ہیں تو بعض لوگوں کو آگ لگ جاتی ہے کس قدر تباہی پھیل گئی ہے، اڈے بنے ہوئے ہیں ، امور عامہ کچھ نہیں کر رہی، خدام الاحمدیہ کچھ نہیں کر رہی ، انصار اللہ کچھ نہیں کر رہی، صدران محلہ بے پرواہ ہیں۔وہ یہ نہیں سوچتے کہ ان میں سے جو متمول ہیں ان کے گھروں میں بھی ٹیلی ویژنز ہیں ، ان کے گھروں میں بھی سہولتیں ہیں ، ان کی کمزوریوں پر ان کے حالات نے پردہ ڈالا ہوا ہے، ان کی اقتصادی حالت نے پردہ ڈالا ہوا ہے اور وہ لوگ بھی گھر میں روزانہ ایسی باتیں کرتے ہیں اور ان سے زیادہ کرتے ہیں جن کو کبھی مہینے میں ایک دفعہ کوئی ویڈیومل گئی بیچاروں کو۔پھر وہ جب لوگ گزررہے ہوتے ہیں گلیوں سے کہیں سے گانے کی آواز آرہی ہوتی ہے بعض لوگ مشتعل ہو جاتے ہیں کہ دیکھو جی! یہاں ربوہ میں گانے گائے جارہے ہیں۔اور بہت سے ایسے گھر بھی ہیں جو اتنے وسیع ہیں کہ ان کے گھروں سے گانوں کی آوازیں باہر نہیں جاتیں۔بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جن کو ایسی نئی قسم کی بجلی کی مصنوعات میسر ہیں کہ کانوں میں اس کی ایک تار کی ٹوٹی دے دی اور کسی کو بھی آواز نہیں جائے گی اپنے آرام سے بیٹھے جو مرضی سنتے رہیں۔تو حقیقت پر نظر ر کھے بغیر محض تنقید سے اصلاح نہیں ہوسکتی۔یہ ٹھیک ہے کہ گانوں کے اوپر کسی زمانے میں جماعت میں بہت بختی ہوا کرتی تھی اور بعض لوگ ان میں سے ایسے ہیں جن کو قادیان کے وہ زمانے یاد آ جاتے ہیں۔وہ کہتے ہیں جی دیکھو! قادیان میں فلاں جگہ گانے کی آواز آئی تھی تو امور عامہ نے یہ کام کیا تھا ان کو گھروں سے نکال دیا تھا، ان کی دکانیں بند کرا دی تھیں لیکن وہ یہ نہیں سوچتے کہ وہ کون سا ماحول تھا اور یہ کون سا ماحول ہے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے تربیت یافتہ صحابہ کی نسلیں تھیں جن کے والدین نے اپنے گھروں میں سوائے تلاوت یا پا کیز نظموں کے کچھ بھی نہیں سنا ہوا تھا ان کی نسلیں جب نرمی اختیار کر رہی تھیں تو اس سے بہت اجنبیت پیدا ہوتی تھی ماحول میں اور جو ماحول دوسرا ہندوستان کے معاشرے کا تھا وہ بھی اتنا بد نہیں تھا۔اب صورتحال اس سے بالکل مختلف ہے۔ان میں سے بہت سے جو نو جوان آج ہمارے شہروں میں یا محلوں میں آباد ہیں جو احمدی بھی ہیں ان میں