سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 101
101 سب سے پہلی بات اس ضمن میں سوچنے کے لائق یہ ہے کہ پہلے لوگوں کا بھی ان بیماروں سے تعلق کٹ گیا کیونکہ وہ نفرت کا شکار ہو گئے اور دوسری قسم کے لوگوں کا بھی ان بیماروں سے تعلق کٹ گیا کیونکہ وہ اس جد و جہد سے علیحدہ ہو گئے اور اپنے گھروں کے آرام خانوں میں وہ گویا کہ بے نیاز ہو کر بیٹھ گئے کہ وہاں بازاروں میں کیا ہو رہا ہے۔پھر ایسے تبصرے بھی آپ کو سنائی دیں گے کہ جی یہ لوگ وہاں بیٹھتے ہیں ، وہاں بیٹھے ہیں مجلسیں لگاتے ہیں اور ایسے تبصرے بھی سنائی دیں گے کہ ان کی مجلسیں تو ڑ دی جائیں ، ان کو ربوہ سے نکال دیا جائے۔ان کے ساتھ یہ سلوک کیا جائے ، ان کے ساتھ وہ سلوک کیا جائے حالانکہ ایسے تبصرے کرنے والے بسا اوقات متمول لوگ ہوتے ہیں۔ان کے گھروں میں ایسی آسائشیں میسر ہوتی ہیں کہ وہ اپنے گھروں میں مجلسیں لگاتے ہیں، راتوں کو دیر دیر تک بیٹھتے ہیں اور ان کے رشتہ دار وہاں اکٹھے ہوتے ہیں، چائے پی جاتی ہے، گیئیں ماری جاتی ہیں، ہر قسم کے تبصرے ہوتے ہیں۔ان کو وہ اپنی حالت دکھائی نہیں دے رہی ہوتی اور بازار میں کچھ غریب نوجوان دکھائی دے رہے ہوتے ہیں جو ان کے نزدیک نہایت آوارہ اور غیر ذمہ دار اور بے راہرو ہیں، ان کو کوئی حق نہیں کہ اکٹھے بیٹھیں کہیں۔غور کرنا چاہئے ، سوچنا چاہئے کہ آخر کیوں ایسا ہورہا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں کو اپنے طبعی دلچسپیوں کے لئے کوئی نکاس کی راہ نظر نہیں آتی۔ہر انسان میں ایک جذبہ ہوتا ہے کسی طرح وہ تسکین حاصل کرے لذت حاصل کرے اپنی تھکاوٹ کو دور کرے۔اگر کسی کے گھر میں ایک کمرہ ہے، غریب کے گھر میں اور وہیں اس کے ماں باپ اور بہن بھائی رہتے ہیں تو اپنے گھر میں بیچارہ کیسے مجلسیں لگا سکتا ہے۔وہ اپنے جیسے غریبوں کو لے کر باہر نکلے گا بازاروں میں کہیں برف والے کے پاس کھڑا ہو جائے گا ، کہیں کباب کی دکان پر ، کہیں کسی مٹھائی کی دکان پر ، پھر وہاں سے گزرتے دیکھے گا عورتوں کو لڑکیوں کو، کچھ پردہ دار ہوں گی کچھ نے بے احتیاطی کی ہوگی پھر ان پر اس کی نظریں پڑیں گی اور اس کی جو تعلیم اور تربیت ہے جو گھروں میں عموماً شروع ہوتی ہے اس کا پس منظر بھی آپ دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ اکثر ایسے نوجوانوں کے ماں باپ خود تربیت کے محتاج ہوتے ہیں اور معاشرے کی وجہ سے یا اقتصادی کمزوریوں کی وجہ سے یا تو انہوں نے تعلیم ہی حاصل نہیں کی ہوتی یا ایسے گھروں میں پرورش پائی ہوتی ہے جہاں کرختگی روز مرہ کی عادت ہے۔خاوند کی بیوی سے بدسلوکی ، بیوی کی خاوند سے بدسلوکی۔یہ روز مرہ وہ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔تو ایسے گھروں میں پلنے والے ان بچوں کو آپ محض قصور وار قرار دے کر رد کر دیں اور یہ سمجھ لیں کہ ناظر امور عامہ تھانے دار بن کر ہر وقت ان بچوں کے خلاف کاروائیاں کرتا رہے گا یا ان کو خدام الاحمدیہ پکڑ کے بدنی سزائیں دے گی یا اور کئی قسم کی ان کے خلاف تعزیری کاروائیاں کی جائیں گی۔یہ درست بات نہیں ہے۔آپ کی سوچ ہی بگڑی ہوئی ہے اس صورت میں۔اصلاح ہمدردی اور حسن سے پیدا ہوتی ہے قرآن کریم نے یہ فرمایا ہے حسن کے بغیر برائی دور نہیں ہو سکتی اور یہ رد عمل جس کی مثال آپ کے سامنے پیش کی