سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 103
103۔سے بھاری اکثریت ایسی ہے جنہوں نے اعلیٰ بزرگوں کی تربیت حاصل نہیں کی۔ربوہ میں بھی اردگرد سے، صرف اردگرد سے نہیں بلکہ سارے پاکستان سے بلکہ اس سے باہر سے بھی بہت سے ایسے لوگ آباد ہوئے ہیں جا کر جن کا اپنا تربیتی پس منظر بہت کمزور ہے۔ایسے لوگ جو مشرقی افریقہ سے وہاں گئے یا انگلستان سے گئے یا اور دوسرے ملکوں سے گئے انہوں نے اپنے ماحول میں اس سے بہت زیادہ گانے سنے، رقص وسرور دیکھے، فلمیں روز مرہ چلتی دیکھیں اور ان کے نزدیک یہ کوئی برائی نہیں تھی۔وہ یہ ساری چیزیں نہ سہی ان میں سے کچھ چیزیں لے کر ربوہ پہنچ گئے۔پھر جیسا کہ میں نے بیان کیا اقتصادی بدحالی کی وجہ سے بہت سے آراموں سے یہ لوگ محروم ہیں۔نہ ان کے گھروں میں پنکھے ہیں ، نہ ان کے گھروں میں علیحدہ بیٹھنے کی جگہیں ہیں ، نہ ان کو اچھا کھانا میسر ہے۔ان بیچاروں کی عیاشی کی انتہا یہ ہے کہ اچھا گانا سن لیں اور جب وہ سنتے ہیں تو آپ ان کو ایسی غضب کی نظر سے دیکھتے ہیں کہ تباہ ہو گئے ہیں یہ لوگ ، ذلیل لوگ ہیں انہوں نے ساری دنیا کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے اور جماعت احمدیہ کے اوپر داغ لگ گئے ہیں، ان کو زبر دستی جس طرح جلا د گندے عضو کو کاٹ کے پھینکتا ہے ان کو کاٹ کر اپنے معاشرے سے الگ کر دو۔یہ غیر حقیقی باتیں ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم خود ایک تصنع کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور تصنع کی حالت میں سوچ رہے ہیں۔ان سب لوگوں کی مجبوریوں اور تکلیفوں پر نظر رکھنا ضروری ہے۔وہ تکلیفیں اصل بیماریاں ہیں۔وہ ناداری کی حالتیں اصل بیماریاں ہیں۔ان معاملات میں آپ ان سے ہمدردی نہ رکھیں اور بیچارے اپنے معصومانہ رنگ میں تھوڑا سا بھی اپنے دل کی تسکین کا سامان پیدا کریں تو آپ غیظ و غضب کا شکار ہو جائیں۔یہ ہے اصل بیماری روحانی جو آپ کو لاحق ہے اس لئے سب سے پہلے تو اصلاح کرنے والوں کو اپنے نفس کی اصلاح کرنی چاہئے۔انصار اللہ کو نو جوانوں کی آوارگی روکنے کی طرف توجہ دینی چاہئے ایک دفعہ مجھے یاد ہے ربوہ میں میں نے اپنی مجلس عاملہ کو کہا انصار اللہ میں تھا یا خدام الاحمدیہ میں، غالبا انصار اللہ کی بات ہے۔میں نے ان سے کہا کہ بہت سارے لڑکے ہیں بیچارے جو آوارگی کا شکار ہوتے چلے جارہے ہیں اور ان کے متعلق روز شکایتیں کرتے ہیں تو کیوں نہ ہم یوں کریں کہ اپنے میں سے ہم اپنی ذمہ داری یہ کر لیں کہ ہم میں سے ہر ایک ایک یا دو یا یا تین کو خصوصیت کے ساتھ اپنا دوست بنانے کی کوشش کرے گا۔ان سے وہ تعلق رکھے گا، ان کے مسائل سنے گا، ان کے دکھوں کو اپنانے کی کوشش کرے گا ، اپنا سکھ ان کے ساتھ بانٹنے کی کوشش کرے گا اور دیکھیں تو سہی کہ پھر کیا نظر آتا ہے۔چنانچہ ہم میں سے جس نے بھی اس نصیحت پر عمل کیا اس کی اپنی حالت بدل گئی۔بعض نے مجھے بتایا کہ بڑے دردناک حالات ہیں۔ہم جب اس کے ساتھ بیٹھے چائے پر بلایا اول تو وہ حیران رہ گئے کہ ہمارے تو لوگ منہ پر تھو کا کرتے تھے کہ یہ کون